Showing posts with label Urdu Literature. Show all posts
Showing posts with label Urdu Literature. Show all posts

Saturday, January 16, 2010

رسائل و جرائد کی اشاریہ سازی: تاریخی روایت اور اہمیت

اس وقت برصغیر ہند و پاک سے لاتعداد رسائل و جرائد شائع ہو رہے ہیں۔ یہ جرائد ادبی، نیم ادبی، سیاسی، مذہبی، سماجی ا ور دیگر موضوعات پر مشتمل ہیں۔ رسائل و جرائد کی اشاعت کی ایک طویل تاریخ ہے اور موضوعات کے اعتبار سے ان کی بڑی اہمیت ہے۔ یہ اہمیت وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتی جاتی ہے کیونکہ آگے چل کر یہی رسائل و جرائد تاریخ نویسی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ بعض رسائل و جرائد کی اہمیت تو کتابوں سے بھی زیادہ ہوتی ہے اور ان کا انتظار قارئین کو بے چین کیے رکھتا ہے۔

کتابوں میں کسی ایک موضوع پر ایک ہی قلم کار کے مضامین ہوتے ہیں اور بیشتر میں یکسانیت ہوتی ہے۔ لیکن رسائل و جرائد میں مختلف عنوانات پر مختلف ادیبوں کے خیالات پڑھنے کو ملتے ہیں۔اسی طرح رسائل و جرائد کے خصوصی شماروں کی بھی زبردست اہمیت ہے۔ جن میں متعدد ماہرین کے مضامین ہوتے ہیں جو بڑے متنوع اور جدا جدا اندازِ نگارش کے ساتھ انتہائی معلومات افزا ہوتے ہیں۔

چونکہ رسائل و جرائد تاریخ نویسی اور تحقیق نگاری میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اسی لیے ان کی اشاریہ سازی (Indexing) کا فن بھی وجود میں آیا اور اہم ادبی و معلوماتی رسائل کی اشاریہ سازی کا کام شروع ہوا۔ اشاریہ سازی کی بڑی افادیت ہے۔ اس کا اندازہ وہی لوگ لگا سکتے ہیں جو کسی ایک موضوع پر کام کر رہے ہوں اور ان کو مختلف رسائل و جرائد کو کھنگالنے کی ضرورت پیش آ گئی ہو۔

ماہانہ رسائل کے خصوصی شمارے کے مرتب ضیااللہ کھوکھر کے مطابق اردو رسائل کی باضابطہ اور کتابی صورت میں اشاریہ سازی کی اہمیت و افادیت کا ادراک سب سے پہلے اورینٹل کالج میگزین کے فاضل مدیر مولوی محمد شفیع مرحوم کو ہوا، ان ہی کی تحریک پر اس کے 1925ء سے1941ء تک کے تمام شماروں کا اشاریہ محمد ابراہیم اور ڈاکٹر سید محمد عبداللہ نے مرتب کیا جو مئی1942ء کے شمارے میں شائع ہوا “۔ بعد میں’ مخزن ‘لاہور کے ایڈیٹر شیخ عبدالقادر نے بھی اس کا احساس کیا اور پھر انھوں نے مخزن کی اشاریہ سازی شروع کر دی۔ مخزن کی جلد چھ شماروں پر مشتمل ہوا کرتی تھی اور جلد کے اختتام پر اس کے شماروں کی مکمل فہرست مضامین کے اعتبار سے دے دی جاتی تھی۔

بہر حال رفتہ رفتہ یہ سلسلہ آگے بڑھتا گیا اور آج اہم رسائل کی اشاریہ سازی کا عمل باقاعدگی سے جاری ہے۔ ہندوستان میں بھی یہ کام ہو رہا ہے اور پاکستان میں بھی۔

ضیاءاللہ کھوکھر گوجرانوالہ لاہور کے ایک معروف تاجر ہیں۔ لیکن ان کو تاجر کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک علمی شخصیت کی حیثیت سے شہرت حاصل ہے۔انھوں نے اپنے والد کے نام پر عبدالمجید کھوکھر یادگار لائبریری قائم کی ہے۔ جس میں لاکھوں کتابوں کا ذخیرہ موجود ہے۔ انہیں کتابیں جمع کرنے کا شوق دیوانگی اور جنون کی حد تک ہے اور یہی دیوانگی ان سے بہت بڑے بڑے کام کروا لیتی ہے۔ان کی لائبریری میں پندرہ سو سفرنامے ہیں جو مشاہیر کے قلم کی پیداوار ہیں۔

انھوں نے حال ہی میں ایک کتاب ’ماہانہ رسائل کے خصوصی شمارے‘ مرتب کی ہے جس میں 1902ء سے لے کر2005ء تک کے رسائل و جرائد کی اشاریہ سازی کی گئی ہے۔ضیاءاللہ کھوکھر ایک ایسے تاجر پیشہ ادیب و صحافی ہیں جو بڑے بڑے ادیبوں اور صحافیوں پر بھاری ہیں۔

اس سے قبل انھوں نے ”’فہارس الاسفار‘ کے نام سے 1300 سفرناموں کی اشاریہ سازی اور بچوں کی صحافت کے سو سال“کے نام سے سو سالہ ادب اطفال کی اشاریہ سازی کی تھی۔ ان دونوں تصنیفات کو حلقہٴ علم و ادب میں زبردست پذیرائی حاصل ہوئی اور اب اسی نوعیت کی یہ تیسری تصنیف اردو دان حلقے میں موضوع گفتگو بنی ہوئی ہے۔

زیر نظر کتاب کے آغاز میں انھوں نے کتاب کا تعارف لکھا ہے جو تعارف کی بجائے ایک بہت ہی وقیع اور مفصل مضمون بن گیا ہے جو رسائل و جرائد کی تاریخ اور اشاریہ سازی کے فن و روایت سے تفصیل کے ساتھ بحث کرتا ہے۔

ضیاءاللہ کھوکھر کہتے ہیں کہ اورینٹل کالج میگزین کے 1925سے1967کے شماروں کا اشاریہ 1970میں اورینٹل کالج میگزین کے سائز اور انداز پر منظر عام پر آیا، اسے اردو رسائل کا ایسا اولین اشاریہ کہنا چاہیے جو کتابی صورت میں شائع ہوا۔ اس کے بعد 1985میں معروف کتابی وضع قطع اور سائز اپنا کر سامنے آنے والا اشاریہ ماہنامہ ترجمان القرآن“ حیدرآباد دکن، پٹھان کوٹ لاہور کا تھا۔ یہ اشاریہ 1932ء سے1976ء کے شماروں کو محیط ہے۔

ان کے بقول 1970ء سے تاحال اشاریوں کی کس قدر تعداد کتابی صورت میں شائع ہوئی ہے، اس کے متعلق حتمی طور پر کچھ کہنا ممکن نہیں ہے۔تاہم ان کی لائبریری میں موجود اشاریوں کے حوالے اور تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ 2000ء سے 2006ء کا دور کتابی صورت میں شائع شدہ اشاریوں کی تعداد کے لحاظ سے سرفہرست ہے۔

ماہانہ رسائل کی بہ نسبت ہفت روزہ رسائل کی اشاریہ سازی زیادہ دقت طلب کام ہے۔مولانا ابوالکلام آزاد کے اخبار الہلال نے جلد کے آخر میں اشاریہ مرتب اور شائع کرنے کی روایت قائم کی تھی۔اس کے بعد ہفت روزہ ”الحدیث“ امرتسر ہی ایسا ہفت روزہ ہے جس کی کسی جلد کا اشاریہ ضیاءاللہ کھوکھر کی لائبریری میں موجود ہے۔

اس وقت برصغیر ہند و پاک سے اگرچہ متعدد رسائل و جرائد شائع ہو رہے ہیں اور ان کو باکمال مدیروں کی خدمات حاصل ہیں۔ لیکن پہلے کے مدیروں میں غضب کی جدت طرازی اور کام کرنے کی لگن اور دھن ہوا کرتی تھی۔ انھوں نے اپنی ذہانت، بصیرت اور ندرت فکر سے رسائل و جرائد کی صحافت کو بلند مقام عطا کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آج کے تحقیق کاروں اور محققوں کو بھی قدیم رسائل و جرائد سے استفادے کی ضرورت پیش آتی ہے۔

در اصل قدیم مدیروں نے اس فن کو ایک نیا اسلوب دیا تھا اور ان کے خیال انگیز افکار کے بطن سے انتہائی تاریخی رسائل نے جنم لیا تھا۔ ان جریدوں کے مدیر تعلیم یافتہ اور جدید ادبی تصورات و رجحانات سے بھی آگاہ تھے۔ بقول ضیااللہ کھوکھر انہیں ادب برائے زندگی کا نظریہ مرغوب نہیں تھا وہ ادب برائے ادب یا جدیدیت کے قائل تھے۔ انھوں نے ادبی اقدار سے بغاوت کر کے جدت پسندی کا راستہ اختیار کیا۔

ان مدیروں میں مخزن کے ایڈیٹر شیخ عبدالقادر، دلگداز کے ایڈیٹر مولانا عبدالحلیم شرر، زمانہ کے ایڈیٹر منشی دیا نرائن نگم، ماہنامہ زبان کے مائل دہلوی، ماہنامہ تمدن کے مولانا راشد الخیری، ماہنامہ اردو کے فتح محمد خاں، ماہنامہ نگار کے علامہ نیاز فتح پوری، ماہنامہ ادبی دنیا کے مولانا تاجور نجیب آبادی، ماہنامہ ساقی کے شاہد احمد دہلوی ، ماہنامہ آج کل کے جوش ملیح آبادی، جگن ناتھ آزاد اور عرش ملسیانی اور ماہنامہ شاعر کے سیماب اکبر آبادی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

ضیاءاللہ کھوکھر کہتے ہیں کہ مخزن لاہور 1901ء سے لے کر ”سب رس حیدرآباد دکن جنوری 1938ء تک کا دورانیہ ایسا روشن اور تاب ناک ہے کہ اسے اردو صحافت کا دور زریں کہا جا سکتا ہے “۔

انھوں نے اردو صحافت کے ارتقائی منازل کا بھی جائزہ لیا ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ مدیروں کے ادبی ذوق اور رسالوں کے مابین جاری چشمک اور ا دبی آویزشوں پر بھی خامہ فرسائی کی ہے۔در اصل یہ پورا مضمون ایک صدی کی اردو صحافت بالخصوص ادبی صحافت کا بھرپور جائزہ پیش کرتا ہے اور ایسے گوشوں کو اجاگر کرتا ہے جن سے عام طور پر اہل اردو بے خبر ہیں۔

اس کتاب کے مطالعہ سے اندازہ ہوا کہ رسائل و جرائد کے سب سے زیادہ خصوصی شمارے جو شائع ہوئے ہیں وہ ہیں اقبال نمبر، افسانہ نمبر، سیرت النبی یا رسول نمبر،غالب نمبر اور قرآن مجید نمبر ۔ ان میں سب سے زیادہ سیرت نمبر شائع ہوئے ہیں۔

ان کے علاوہ شاعری نمبر، غزل نمبر، فیض نمبر، حج نمبر، رمضان المبارک نمبر، جگر نمبر، جوبلی نمبر، گولڈن جوبلی نمبر، سید ابو الاعلٰی مودودی نمبر، کہانی نمبر، کشمیر نمبر، ناول اور ناولٹ نمبر وغیرہ وغیرہ شائع ہوئے ہیں ۔ زیر نظر کتاب اشاریہ سازی کے ساتھ ساتھ سو سال کے ادبی سفر کا بھرپور جائزہ پیش کرتی ہے اور یہ ریسرچ اسکالروں اور تحقیق نگاروں کے لیے انتہائی مفید ہے۔

Tuesday, December 29, 2009

مرزا غالب کے 212 ویں یوم پیدائش پردہلی میں متعدد تقریبات کا انعقاد

نابغہ روزگار شاعر مرزا غالب کے یوم پیدائش پر دار الحکومت دہلی میں دو روزہ تقریبات منائی گئیں۔ اس موقع پر چاندنی چوک سے غالب کی حویلی تک کینڈل مارچ نکالا گیا۔ کتھک رقاصہ اوما شرما نے غالب کی غزلوں پر رقص پیش کیا۔ قلمکار اور دانشور پون ورما نے غالب پر مضمون پیش کیا اور ڈرامہ نگار انیس اعظمی نے غالب کے انداز میں خطوط غالب کی قرآت کی۔
26اور27 دسمبر کو دوروزہ یوم غالب تقریبات کے دوران چاندنی چو ک کے ٹاون ہال سے گلی قاسم جان میں واقع غالب کی حویلی تک کینڈل مارچ میں معروف شاعر اور فلمی نغمہ نگار گلزار، ڈائرکٹر وشال بھاردواج، ان کی اہلیہ اور گلوکارہ ریکھا بھاردواج، رقاصہ اوما شرما، قلمکار پون ورما اور بڑی تعداد میں دہلی کی ادب نواز اور غالب پسند شخصیات موجود تھیں۔

اس موقع پر گلزار نے کہا کہ غالب کو یاد کرنے کا بہترین طریقہ ہے کہ ہم شمع روشن کرکے غالب کی حویلی تک جاتے ہیں اور ہماری خواہش ہے کہ یہ روایت ہمیشہ زندہ رہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ بہت سے لوگ مجھ سے کہتے ہیں کہ میں نے مرزاغالب سیرئیل بناکر اسکرین پر غالب کی زندگی بنا دی لیکن میں کہتا ہوں کہ غالب نے میری زندگی بنا دی۔

انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ غالب کی حویلی کو ایک میوزیم میں تبدیل کیا جائے۔

پون ورما نے کہا کہ جس تہذیب و ثقافت سے غالب کا رشتہ تھا وہ ہماری شاندار روایت کا حصہ ہے اور غالب صرف شاعر ہی نہیں بلکہ ایک تہذیب اور طرز زندگی کی علامت ہیں۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ جس قوم نے اپنے ادیبوں اور فنکاروں کی قدر نہیں کی اسے کبھی ترقی نہیں ملی۔

وشال بھاردواج نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کینڈل مارچ کے توسط سے ہم نے غالب کے سفر کی دریافت نو کی ہے۔

چاندنی چوک سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے سابق رکن پارلیمنٹ وجے گوئل نے غالب کی حویلی کی خستہ حالی پر رنج و غم کا اظہار کیا اور اس کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔

مارچ کے شرکا نے غالب کی حویلی کے غلط استعمال کے خلاف احتجاج کیا اور اس کے تحفظ پر زور دیا۔

واضح رہے کہ چند روز قبل غالب کی حویلی میں ایک شادی کی تقریب منعقد ہوئی تھی جس کے سبب حویلی میںچاروں طرف گندگی پھیل گئی تھی۔ اس پر غالب نواز لوگوں کی طرف سے شدید احتجاج کیا گیا تھا۔

اس مارچ میں ایڈووکیٹ عبد الرحمن نے غالب کا لباس اور ان کے جیسی ٹوپی پہن کر شرکت کی اور اعلان کیا کہ وہ غالب پر ایک فلم بنائیں گے جس کو اگلے سال یوم غالب پر لندن میں ریلیز کیا جائے گا۔

ادھر دوسرے روز کی تقریبات کے دوران کتھک رقاصہ اوما شرما نے انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں غالب کی چنندہ غزلوں پر رقص پیش کرکے ناظرین کو محظوظ کر دیا۔

یہ پروگرام غالب میمورئیل موومنٹ کے زیر اہتمام انڈین کونسل فار کلچرل ریلیشنز، دہلی حکومت، ساہتیہ کلا پریشد، ایس جی فاونڈیشن اور بھارتیہ سرن سنگیت کے اشتراک سے منعقدہوا۔

اوما شرما نے ’شمع جلتی ہے تو اس میں سے دھواں اٹھتا ہے، ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے، تیرے دل میں گر نہ تھا آشوب غم کا حوصلہ‘ وغیرہ غزلوں کی رقص کے ذریعے تشریح کرکے تفہیم غالب کے نئے گوشے وا کیے۔

اوما شرما کے شاگردوں نے غالب کی نظم ”چراغ دیر“ (بنارس کو خدا محفوظ رکھے چشم بد بیں سے) کی خوبصورت پیشکش کے ذریعے غالب کی مذہبی رواداری کو اجاگر کیا۔

اس پروگرام میں پون ورما نے اپنی تصنیف ’غالب، شخصیت اور فن‘ کے بعض اقتباسات پیش کیے ۔

دوسرے روز کی آخری تقریب غالب اکیڈمی میں منعقد ہوئی جس میں معروف ڈرامہ نگار انیس اعظمی نے خطوط غالب کو ڈرامائی انداز میں پڑھ کرلوگوں کے دل جیت لیے۔

انھوں نے 1852سے1868تک کے خطوط غالب کو اس انداز میں پیش کیا کہ اس دور کا پورا منظرنامہ آنکھوں کے سامنے آگیا۔

انیس اعظمی نے منشی ہرگوپال تفتہ، تفضل حسین خاں، پیارے لال آشوب، گوبند سہائے، نواب امین الدین احمد خاں، میر مہدی مجروح، عزیز الدین ، خواجہ غلام غوث خاں اور رامپور کے نواب میر حبیب نواب کو لکھے خطوط کی اس انداز میں قرات کی کہ ایسا لگ رہا تھا جیسے غالب خود آکر اپنے خطوط پڑھ رہے ہیں۔

ان خطوط سے اس دور کی تاریخ پر بھی اجمالاً روشنی پڑتی ہے۔

خیال رہے کہ انیس اعظمی ملک کے مختلف شہروں میں سو سے زائد مرتبہ خطوط غالب کی بہ زبان غالب قرات کرکے تفہیم غالب کو ایک نئی جہت دے چکے ہیں۔

اس موقع پر غالب اکیڈمی کے صدر خواجہ حسن ثانی نظامی نے کہا کہ غالب نے حضرت علی کی شان میں جو قصائد لکھے ہیں وہ بے مثال ہیں اور اگر غالب کسی دوسرے مذہب کے پیرو ہوتے تو مولا علی ان کے دیوتا ہوتے۔

غالب اکیڈمی کے سکریٹری ڈاکٹر عقیل احمد نے کہا کہ غالب کی زندگی کا سب سے اہم واقعہ 1857کی لڑائی ہے۔ ان کے بعد کوئی ایسا شاعر موجود نہیں جو پہلی جنگ آزادی کے حالات قلمبند کرتا۔

انھوں نے مزید کہا کہ غالب اپنے خطوط کو چھپوانا نہیں چاہتے تھے تاہم ان کی زندگی ہی میں ’عود ہندی‘ اور ’اردوئے معلی‘ کی اشاعت ہو گئی تھی۔

Saturday, December 12, 2009

مطالعات غالب میں حکیم عبد الحمید کی ناقابل فراموش خدمات

ہندوستان میں ہمدرد دواخانہ کے بانی حکیم عبد الحمید غالب کے بہت بڑے مداح تھے۔ انھوں نے مزار غالب کی تعمیر کے سلسلے میں نمایاں کوششیں کی تھیں ۔ انھوں نے ہی مزار سے متصل ایک بڑا قطعہ اراضی خرید کر اس پر غالب اکیڈمی کی تعمیر کروائی۔ غالب پر ان کی مرتب کردہ تین کتابیں ’حالات غالب‘ ’مطالعات خطوط غالب‘ اور ’مطالعات کلام غالب‘ شائع ہوئی ہیں۔جبکہ غالب اکیڈمی میں ان کی کوششوں سے قائم غالب میوزیم لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کیے ہوئے ہے۔

دارالسلطنت نئی دہلی کے علاقے بستی حضرت نظام الدین میں واقع غالب اکیڈمی میں گذشتہ روز ’مطالعات غالب میں حکیم عبد الحکیم کی خدمات‘ کے زیر عنوان ایک پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس میں درگاہ حضرت نظام الدین اولیا کے سجادہ نشین خواجہ حسن ثانی نظامی نے، جو کہ حکیم عبد الحکیم کے ایک قریبی دوست رہے ہیں، کلیدی خطبہ پیش کیا اور مطالعات غالب میں حکیم صاحب کی خدمات پر تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی۔انھوں نے بتایا کہ حکیم صاحب غالب کے بہت بڑے مداح تھے۔ اسی لئے انھوں نے مزار غالب سے متصل غالب اکیڈمی قائم کی تاکہ غالب کی تفہیم و ترویج میں مدد مل سکے۔
خواجہ حسن ثانی نظامی نے مزار غالب کی تعمیر کے سلسلے میں ملک کے مختلف حصوں میں کیے جانے والے چندے کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ کس طرح بہت سے لوگوں نے ان کے مزار کے لیے چندے جمع کیے اور ہضم کر گئے۔ انھوں نے مزار غالب کی تعمیر کے سلسلے میں فلم ساز سہراب مودی کے تعاون سے متعلق پھیلی غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اس بارے میں کوئی تعاون نہیں دیا تھا۔ ان کا تعاون بس اتنا تھا کہ انھوں نے مزار غالب پر چادر چڑھائی اور وہاں کھڑے ہو کر تصویر بنوا ئی۔ اور اس طرح ایک غلط فہمی پھیل گئی۔

غالب اکیڈمی کے سکریٹری ڈاکٹر عقیل احمد نے غالب سے حکیم عبد الحمید کی محبت اور عقیدت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ غالب اکیڈمی کے قیام کا منصوبہ انھوں نے 1935ہی میں بنا لیا تھا۔ اسی سال انھوں نے مطالعات غالب کی خاطر غالب اکیڈمی قائم کرنے کے لیے مزار غالب سے متصل ایک قطعہ اراضی خریدا۔ بعد میں اس پر ’غالب اکیڈمی‘ کے نام سے ایک تین منزلہ عمارت تعمیر کی گئی اور غالب صدی تقریبات کے دوران 22فروری 1969کو اس وقت کے صدر جمہوریہ ڈاکٹر ذاکر حسین نے اس عمارت کا افتتاح کیا۔اسی موقع پر یوسف حسین مرحوم کی کتاب ’غالب اور آہنگ غالب‘، ہندی میں ’سرل غالب‘ اور انگریزی میں ’نوائے سروش‘ کے نام سے غالب پر تین کتابیں غالب اکیڈمی سے شائع کی گئیں۔غالب اکیڈمی کی جانب سے غالب پر اب تک دو درجن سے زائد کتابیں شائع کی جا چکی ہیں۔

ڈاکٹر عقیل نے مزید بتایا کہ حکیم صاحب کے ذاتی ذخیرے سے غالب اکیڈمی کی عمارت میں میوزیم اور لائبریری بھی قائم کی گئی۔

انھوں نے کہا کہ حکیم صاحب نے غالب کے کلام کو موسیقی کے ذریعے پھیلانے کی بھی کوشش کی اور انہی کی کوششوں سے موسیقی کے ساتھ کلام غالب گانے کا سلسلہ شروع کیا گیا جو کئی سالوں سے اب بھی جاری ہے۔ حکیم صاحب نے غالب کی غزلوں کے کیسٹ اور فلاپی بھی بنوائی تھی (اس وقت سی ڈی کا رواج شروع نہیں ہوا تھا)۔اس طرح انھوں نے موسیقی کی مدد سے غالب کی غزلوں کو پوری دنیا میں پھیلانے کی کوشش کی تھی۔

حکیم صاحب 1935سے ہی غالب پر لکھی گئی تحریریں یکجا کرتے رہے اور ان کو مختلف عنوانات کے تحت فائلوں میں محفوظ کرتے رہے ہیں۔انہی فائلوں کے مضامین کے انتخاب سے تین کتابیں غالب کی سوانح، غالب کی نثر اور غالب کی شاعری ترتیب پائی تھیں۔پہلی کتاب 1999میں ’حالات غالب‘ کے نام سے شائع ہوئی۔ اس کے بعد دوسری کتاب ’مطالعات خطوط غالب‘ حکیم صاحب کے سوویں یوم پیدائش پر شائع کی گئی اور اب تیسری کتاب ’مطالعات کلام غالب‘ غالب اکیڈمی نے شائع کی ہے۔

ہمدرد آرکائیوز ریسرچ سینٹرکے ڈائرکٹر سید اوصاف علی نے بھی، جنھوں نے چالیس سال تک حکیم عبد الحمید کے ساتھ کام کیا ہے، غالب سے حکیم صاحب کی عقیدت و محبت پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے بتایا کہ حکیم صاحب غالب میوزیم قائم کرنے کے سلسلے میں بہت پرجوش تھے۔انھوں نے غالب کی پسندیدہ اشیاکو یکجا کرواکر میوزیم میں رکھوایا۔ یہاں تک کہ غالب کو بخارہ کی خمیری روٹی بہت پسند تھی ،لہذا جب میں ایک پروگرام کے تحت بخارا گیا تو حکیم صاحب نے مجھ سے وہاں کی روٹی منگوائی اور وہ روٹی آج بھی میوزیم میں رکھی ہوئی ہے۔

اس میوزیم میں غالب کے پسندیدہ کھانوں کے علاوہ غالب کے لباس بھی رکھے ہوئے ہیں اور ان کا ایک قد آدم مجسمہ اور یہاں تک کہ اس ڈومنی کا بھی مجسمہ نصب ہے، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ غالب کی محبوبہ تھی۔ اس کے علاوہ ایک مصور برجیندر سیال نے غالب کے اشعار کے مفہوم کو سنگ ریزوں کی مدد سے سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ مثال کے طور پر :

نقش فریادی ہے کس کی شوخی تحریر کا
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا

اس شعر کے مفہوم کو اجاگر کرنے کے لئے ایسے سمندری پتھر ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ کرکے رکھے ہوئے ہیں جو انسانی شبیہ کا تصور اور مذکورہ شعر کا مفہوم پیش کر رہے ہیں۔

اس پروگرام میں یونیورسٹیوں کے اساتذہ نے بھی مطالعات غالب میں حکیم عبد الحمید کی خدمات پر روشنی ڈالی۔

اس موقع پر غالب اکیڈمی سے شائع کتاب ’مطالعات کلام غالب‘ کی رسم رونمائی بھی ہوئی، جس میں خواجہ حسن ثانی نظامی، گلزار دہلوی، سید اوصاف علی، ڈاکٹر عقیل احمد اور دوسرے لوگ شامل تھے۔

اس کتاب میں کل چالیس مضامین ہیں جو 1953سے لے کر 1998تک کے دوران مختلف اخبارات و رسائل میں شائع ہوئے ہیں۔ مضمون نگاروں میں پروفیسر سید احتشام حسین، ماہر غالبیات مالک رام، ظ۔ انصاری، پروفیسر آل احمد سرور، سید عابد علی عابد، وحید قریشی، فرمان فتح پوری، کالی داس گپتا رضا، گیان چند جین، جگن ناتھ آزاد اور سید مسعود حسین رضوی ادیب جیسے نامور قلمکار اور ماہرین غالبیات شامل ہیں۔

Sunday, November 22, 2009

علامہ اقبال کے یوم پیدائش پر ہندوستان بھر میں یوم اردو کا انعقاد

شاعر مشرق، حکیم الامت علامہ اقبال کے 132ویں یوم پیدائش پرنو نومبر کو ہندوستان کے مختلف شہروں میں یوم اقبال اور یوم اردو کا انعقاد کیا گیا۔

شاعر مشرق، حکیم الامت علامہ اقبال کے 132ویں یوم پیدائش پرنو نومبر کو ہندوستان کے مختلف شہروں میں یوم اقبال اور یوم اردو کا انعقاد کیا گیا۔ اس سلسلے میں اہم تقریب دارالسلطنت دہلی میں منعقد ہوئی۔ آل انڈیا اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن اور یونائٹیڈ مسلم آف انڈیا کے زیر اہتمام گذشتہ پندرہ برسوں سے یوم اقبال پر یوم اردو کا انعقاد کیا جا رہا ہے اور اب یہ سلسلہ رفتہ رفتہ پورے ملک میں پھیلتا جا رہا ہے۔

غالب اکیڈمی میں منعقد ہ اس تقریب میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شریک دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر تیجندر کھنہ نے انتہائی شستہ اردو میں علامہ اقبال سے اپنی عقیدت کا اظہار کیا اور ان کے متعدد اشعار کے حوالے سے کہا کہ علامہ اقبال نے اتحاد و یگانگت کا درس دیا ہے اختلاف و انتشار کا نہیں۔

انھوں نے کہا کہ کیا کوئی اور شاعر ’سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا‘ جیسی نظم لکھ سکتا ہے۔ تیجندر کھنہ نے کہا کہ صرف یوم اقبال یا یوم اردو منانے سے اقبال کے لئےعقیدت کا اظہار نہیں ہو سکتا۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم اقبال کے پیغام کو عام کریں اور ’مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا‘کے پیغام کو عملی انداز میں اپنی زندگی میں منتقل کریں۔ لیفٹیننٹ گورنر نے اقبال کے حوالے سے یہ بھی کہا کہ دنیا کا کوئی بھی مذہب نفرت اور قتل و خوں ریزی نہیں سکھاتا اور اسلام تو امن و شانتی کا مذہب ہے۔ انھوں نے اردو کے حوالے سے کہا کہ یہ زبان ایک شیریں زبان ہے اور وہ اس کا وعدہ کرتے ہیں کہ دہلی میں اردو کو اس کا حق دلانے میں کبھی بھی پس و پیش سے کام نہیں لیں گے۔

دہلی یونیورسٹی میں شعبہ اردو کے سابق صدر اور ماہر اقبالیات پروفیسر عبد الحق نے صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ علامہ اقبال ایک آفاقی شاعر ہیں۔ انھوں نے 1923میں افغانستان کے مستقبل کو دیکھ لیا تھا اور کہا تھا کہ افغانستان ایشیا کے جسم کی حیثیت رکھتا ہے اور افغان عوام اس جسم کے دل کا درجہ رکھتے ہیں۔ اگر افغانستان میں شورش ہوگی تو پورا ایشیا اضطراب میں مبتلا رہے گا۔ انھوں نے کہا کہ آج دیکھ لیجئے کہ افغانستان میں کیا ہو رہا ہے اورایشیا پر اس کے کیسے اثرات مرتب ہو رہے ہیںں۔

پروفیسر عبد الحق نے مزید کہا کہ یوں تو دنیا میں سات عجوبے ہیں لیکن اگر ان میں آٹھویں عجوبے کا اضافہ کیا جائے تو بلا شبہ وہ علام اقبال ہوں گے۔ وہ اور ان کی شاعری کسی عجوبے سے کم نہیں اور ان کی شاعری نے جو آفاقی پیغام دیا ہے وہ کسی اردو شاعر نے نہیں دیا ہے۔

اقبال کے بارے میں ان کے ایک نکتہ چیں مجنوں گورکھپوری کو کہنا پڑا تھا کہ دنیا میں کبھی کبھی ایسی ہستیاں پیدا ہوتی ہیں جو نہ صرف اپنے زمانے کے میلانات کے تابع ہوتی ہیں بلکہ خود ان پر قادر بھی ہوتی ہیں۔ وہ مروجہ دھاروں کے رخ کو نئی سمتوں میں موڑ دیتی ہیں۔ اقبال کا شمار بھی انہی ہستیوں میں ہوگا۔ وہ اپنے زمانے کے مخلوق تھے مگر ایک نئے زمانے کے خالق بھی تھے۔ اسی طرح فراق گورکھپوری کا یہ اقرار بھی دلچسپ ہے کہ ایشیا بھر کے شاعر مل کر اقبال کی اس غزل کا جواب نہیں لکھ سکتے:

نہ سلیقہ مجھ میں کلیم کا نہ قرینہ تجھ میں خلیل کا

انھوں نے اقبال کی شاعری کے رموز و نکات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اقبال ایک عوامی شاعر بھی ہیں اور ان کا یہ مصرع تو زبان زد عام ہے:

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے۔

اس کے علاوہ دیہات کے ان پڑھ لوگ بھی لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری ‘ نظم سے بخوبی واقف ہیں۔ علامہ نے 1904میں نظم ’ ترانہ ہندی ‘ تخلیق کی تھی اور اس نظم کا ایک مصرعہ ’سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا‘ خلانورد راکیش شرما کی زبان سے بالائے قمر تک پہنچا تھا۔ انھوں نے 27سال کی عمر میں یہ نظم لکھی تھی اور آج تک اردو کیا کسی دوسری زبان میں بھی ایسی نظم نہیں لکھی گئی۔ اسے بھی چھوڑیے، ہم نے احتجاج و انقلاب کو صبح و شام کا وظیفہ تو سمجھا ہے مگر انصاف کی بات یہ ہے کہ اقبال کے اس شعر کا جواب اب تک کسی سے نہیں بن پڑا:

جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی
اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو

پروفیسر عبد الحق نے یاد دلایا کہ جنرل ایوب خاں نے اپنی کتاب کا نام رکھا ’جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی‘۔ ہندوستان کے دوسرے صدر ڈاکٹر رادھا کرشنن نے بھی اقبال کو خراج عقیدت پیش کیا ہے اور ڈاکٹر ذاکر حسین کو تو اقبال بہت عزیز تھے ۔پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو اقبال سے بہت متاثر تھے۔ اسی طرح ڈاکٹر من موہن سنگھ بھی ان کے اشعار گنگناتے ہیں۔ ان کے علاوہ کتنے اکابرین ہیں جن کے دلوں میں علامہ اقبال شمع آرزو بن کر مچل رہے ہیں۔ ملک کی چھ بڑی دانش گاہوں میں اقبال کو اعزازی ڈگری کا تفویض کیا جانا بھی ان کی جلیل القدر علمی خدمات کا اعتراف ہے۔ ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر و حیدرآباد کے علاوہ کلکتہ میں اقبال چئیر کا قیام بھی اسی اعتراف کی روشن دلیل ہے۔

اس تقریب کے روح و رواں اور یونائٹیڈ مسلم آف انڈیا کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر سید احمد خاں نے ان لوگوں کو آڑے ہاتھوں لیا جو اقبال کے یوم پیدائش پر اردو ڈے منانے پر دبی زبان میں نکتہ چینی کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اقبال کے یوم پیدائش پر اردو ڈے منانے کا فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کیا گیا ہے اور اب نہ صرف پورے ملک میں بلکہ بیرون ملک ان علاقوں میں بھی جنہیں اردو کی نئی بستیاں کہا جاتا ہے، اقبال کے یوم پیدائش پر عالمی اردو ڈے منایا جا رہا ہے۔


جامع مسجد فتح پوری کے شاہی امام ڈاکٹر مفتی مکرم احمد، پروفیسر شریف احمد، پروفیسرمنیر احمد، پروفیسر ابن کنول، پروفیسر اے آر کاردار اور دہلی کے متعدد صحافیوں اور ادیبوں نے اس تقریب میں علامہ اقبال کو شاندار خراج عقیدت پیش کیا۔

اس موقع پر علامہ اقبال کی یاد میں ہمیشہ کی مانند ایک یادگار مجلے کا اجرا کیا گیا اور اقبال اور اردو کے نام پر متعدد شخصیات کو ایوارڈز دیے گئے۔

اسی درمیان اتر پردیش، بہار، مغربی بنگال، آندھرا پردیش، اڑیسہ، جھارکھنڈ، مہاراشٹرا، مدھیا پردیش اور ملک کی دوسری ریاستوں سے بھی یوم اقبال اور یوم اردو منانے کی اطلاع ات موصول ہوئی ہیں۔ اتر پردیش کے قصبہ نگینہ میں اقبال ڈے کے موقع پر ان کی شاعری کے مختلف پہلووں پر اظہار خیال کیا گیا اور متعدد پروفیسروں اور دانشوروں نے اس خیال کا اظہار کیا کہ اقبال کو نوبیل انعام ملنا چاہیے تھا۔

علیگڑھ میں یوم اردو تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اے ایم یو میں شعبہ قانون کے پروفیسر ڈاکٹر شکیل صمدانی نے کہا کہ اقبال صرف ایک شاعر ہی نہیں بلکہ ایک عظیم مفکر، فلسفی، دانشور اور تاریخ پر گہری نظر رکھنے والے شخص تھے۔ مرادآباد، دیوبند، سہارنپور اور دوسرے شہروں سے بھی یوم اقبال اور یوم اردو منائے جانے کی خبریں ہیں۔ ان تقریبات میں علامہ اقبال کو یاد کرنے کے ساتھ ساتھ اردو کے مسائل کا بھی ذکر کیا گیا اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اردو کو اس کا جائز حق دے۔


published on VOAnews.com at
http://www1.voanews.com/urdu/news/arts-entertainment/India-Iqbal-day-70142787.html

فیض احمد فیض کی 25ویں برسی پر دہلی میں یادگار تقریب کا انعقاد

ایک بار پھر یہ بات ثابت ہو گئی کہ فن کی کوئی سرحد نہیں ہوتی اور فن کار محبت اور دوستی کا نقیب ہوتا ہے۔اگر ایسا نہیں ہوتا تو اہل دہلی نہ تو احمد فراز کی یاد میں تقریب کا اہتمام کرتے اور نہ ہی فیض احمد فیض کی برسی پر ایک خوبصورت شام منعقد کی جاتی۔

”فیض احمد فیض صرف پاکستان کے ہی شاعر نہیں ہیں بلکہ وہ ہر اس شخص کے شاعر ہیں جو اپنے سینے میں دھڑکتا ہوا دل رکھتا ہے اور جس کے نزدیک فن اور فن کار کے لئے زمینی سرحدوں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔“

ان خیالات کا اظہارفیض احمد فیض کی 25ویں برسی پر دہلی کے تین مورتی آڈیٹوریم میں منعقدہ یادگار شام کے شرکا نے کھلے دل کے ساتھ کیا۔اس تقریب کا اہتمام صفدر ہاشمی میمورئل ٹرسٹ (SAHMAT)اور نہرو میموریل نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔

اس خوب صورت شام کی سب سے خاص بات یہ رہی کہ معروف کلاسیکی گلوکارہ شُبھامُدگل نے فیض کا کلام اپنی خوبصورت آواز میں پیش کر کے سامعین کو سحر زدہ کر دیا۔ انھوں نے فیض احمد فیض کی غزلوں اور نظموں کو اپنی آواز دے کر یہ ثابت کر دیا کہ فیض صرف پاکستان کے ہی شاعر نہیں ہیں اور یہ کہ فیض جیسے شعرا ایک صدی میں ایک ہی بار پیدا ہوتے ہیں۔

شبھا مدگل نے جب سحر انگیزموسیقی کے درمیان فیض کی یہ نظم سنائی تو ایک سماں بندھ گیا:

اس وقت تو یوں لگتا ہے کہ کچھ بھی نہیں ہے
مہتاب نہ سورج نہ اندھیرا نہ سویرا
آنکھوں کے دریچے پہ کسی خواب کی چلمن
اور دل کی پناہوں میں کسی درد کا ڈیرا

فیض احمد فیض نے ارضِ وطن کو مخاطب کرکے بھی بہت سی نظمیں کہی ہیں جن میں ان کے دردِ دل کی پوری عکاسی ہوئی ہے۔ ایسی ہی ایک نظم جب شُبھا مدگل نے اپنے درد بھرے انداز اور پُر سوز آواز میں پیش کی تو سامعین بھی اس درد کی گہرائی میں ڈوب گئے۔ نظم کا بند ملاحظہ کریں:

تجھ کو کتنوں کا لہو چاہیے اے ارض وطن
جو ترے عارضِ بے رنگ کو گلزار کریں
کتنی آہوں سے کلیجہ ترا ٹھنڈا ہوگا
کتنے آنسو ترے صحراؤں کو گل زار کریں
ہم تو مہماں ہیں گھڑی بھر کے ہمارا کیا ہے

محفل اس وقت قہقہہ زار ہو گئی جب شبھا مدگل نے کہا کہ وہ فیض کی ایک طویل نظم سنانا چاہتی ہیں لیکن انھیں اندیشہ ہے کہ سامعین اس کی طوالت سے بور نہ ہو جائیں، اس پر ایک سامع نے ظریفانہ انداز میں کہا کہ ہم بور نہیں ہوں گے کیوں کہ دہلی والے لمبے ٹریفک جام کے عادی ہو چکے ہیں۔

اپنے فن کے مظاہرے کے بعد کلاسیکل سنگر شبھا مدگ ل نے یہ اعتراف کیا کہ انھوں نے اردو نہیں سیکھی ہے اور نہ ہی وہ اردو زبان کے تلفظ کی باریکیوں اور نزاکتوں سے واقف ہیں۔ لہٰذا ممکن ہے کہ ان سے کچھ غلطیاں ہوئی ہوں۔ ان غلطیوں کو درگزر کر دیا جائے۔ انھوں نے مزید کہا کہ وہ فیض صاحب کی عقیدت مند ہیں اور اسی لیے انھوں نے ان کا کلام گاکر سنانے کا فیصلہ کیا۔بقول ان کے ”پھر میں نے سوچا جب دُسّاہس(جرات بیجا) کر ہی رہے ہیں تو کیوں نہ جم کر کی جائے۔“

انھوں نے خود کو فیض احمد فیض کی مرید اور بھکت بتا کر ان سے اپنی عقیدت کا اظہار بار بار کیا اور کہا کہ انھیں فیض صاحب کا کلام گانے میں عجیب لذت اور طمانیت کا احس اس ہوتا ہے اور اسی لیے انھوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ایسے پروگراموں کا مزید انعقاد کروائیں گی اور ان میں فیض احمد فیض کا کلام گا کر سنائیں گی۔

اس موقع پر فیض احمد فیض کے فن اور ان کی شخصیت پر بھی روشنی ڈالی گئی اور یہ فریضہ ادا کیا پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے۔انھوں نے فیص احمد فیض کی شاعری کے مختلف پہلووں پر ان کی غزلوں اور نظموں پر اظہار خیال کیا۔

اس خوبصورت تقریب میں دہلی کے باذوق حضرات کی بڑی تعداد موجود تھی۔


published at VOAnews.com at
http://www1.voanews.com/urdu/news/arts-entertainment/faiz-delhi-shubha-mudgal-21nov09-70695892.html

Thursday, November 19, 2009

مولوی اسما عیل میرٹھی، ایک ہمہ جہت شخصیت

مولوی اسما عیل میرٹھی کا شمار جدید اردو ادب کے ان اہم ترین شعرا میں ہوتا ہے جن میں مولانا الطاف حسین حالی، مولوی محمد حسین آزاد وغیرہ شامل ہیں۔


تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا
کیسی زمیں بنائی کیا آسماں بنایا

ادب سے ہی انسان انسان ہے
ادب جو نہ سیکھے وہ حیوان ہے

بگڑتی ہے جس وقت ظالم کی نیت
نہیں کام آتی دلیل اور حجت

ظلم کی ٹہنی کبھی پھلتی نہیں
ناؤ کاغذ کی کبھی چلتی نہیں

ملے خشک روٹی جو آزاد رہ کر
تو ہے خوف و ذلت کے حلوے سے بہتر

جو بات کہو صاف ہو ستھری ہو بھلی ہو
کڑوی نہ ہو کھٹی نہ ہو مصری کی ڈلی ہو

یہ اشعار مولوی اسماعیل میرٹھی کے ہیں جو انھوں نے بچوں کے لئے لکھے ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ صرف بچوں کے شاعر تھے۔ معروف نقاد پروفیسر گوپی چند نارنگ کہتے ہیں:

”بچوں کا ادب اسماعیل میرٹھی کی ادبی شخصیت کا محض ایک رخ ہے۔ان کا شمار جدید نظم کے ہئیتی تجربوں کے بنیاد گزاروں میں بھی ہونا چاہیے۔ آزاد اور حالی نے جدید نظم کے لئے زیادہ تر مثنوی اور مسدس کے فارم کو برتا تھا۔اسماعیل نے ان کے علاہ مثلث، مربع، مخمس اور مثمن سے بھی کام لیا ہے۔ ترقی پسند شاعروں نے آزاد نظم اور نظم معرٰی کے جو تجربے کیے، ان سے بہت پہلے عبد الحلیم شرر، نظم طباطبائی اور نادر کاکوروی اور ان سے بھی پہلے اسماعیل میرٹھی ان راہوں سے کانٹے نکال چکے تھے۔“

اسماعیل میرٹھی 12نومبر 1844کو میرٹھ کے ایک محلے مشائخان میں پیدا ہوئے تھے۔ اب یہ علاقہ اسما عیل نگر کے نام سے معروف ہے۔ان کا سلسلہ نسب حضرت محمد بن ابو بکر صدیقؓ سے جا ملتا ہے۔ ان کے کسی بزرگ نے ترکستان کے قدیم شہر خجند میں سکونت اختیار کی تھی اور وہاں سے آپ کے مورث اعلی میں سے قاضی حمید الدین خجندی بادشاہ ظہیر الدین بابر کے ہمراہ ہندوستان آئے تھے۔

تعلیم مکمل کرنے کے بعد اسما عیل میرٹھی نے سررشتہ تعلیم میں ملازمت اختیار کی جہاں ان کی ملاقات قلق میرٹھی سے ہوئی۔ قلق میرٹھی نے انگریزی کی پندرہ اخلاقی نظموں کا منظوم ترجمہ ’جواہر منظوم‘ کے نام سے کیا تھا۔ اس منظوم ترجمے نے اسما عیل میرٹھی کو بہت متاثر کیا، جس سے نہ صرف ان کی شاعری میں بلکہ جدید اردو نظم میں وہ انقلاب برپا ہوا کہ اردو ادب جدید نظم کے نادر خزانے سے مالامال ہو گیا۔

مولوی اسما عیل میرٹھی کا شمار جدید اردو ادب کے ان اہم ترین شعرا میں ہوتا ہے جن میں مولانا الطاف حسین حالی، مولوی محمد حسین آزاد اور غلام مولی قلق میرٹھی شامل ہیں۔ ان لوگوں نے اس وقت اردو زبان وادب کی آبیاری کی جب فارسی زبان وادب کا بول بالا تھا۔ مدارس میں فارسی کتابوں کا چلن تھا اور گھروں میں صرف انفرادی طور پر اردو کی تعلیم ہوتی تھی۔ اس وقت بچوں کی تدریسی ضرورتوں کا ادراک کرتے ہوئے جس شخص نے باقاعدہ بچوں کے ادب کی طرف توجہ دی وہ مولوی اسما عیل میرٹھی تھے۔ انھوں نے نظمیں بھی لکھیں اور پہلی سے پانچویں جماعت تک کے لئے اردو کی درسی کتابیں بھی تصنیف کیں۔ ابتدائی جماعتوں کے لئے اردو زبان کا قاعدہ بھی مرتب کیا۔ انھوں نے قواعد و زبان پر بھی کئی کتابیں تصنیف کیں۔ انھوں نے لوئر پرائمری، اپر پرائمری اور مڈل جماعتوں کے لئے علاحدہ درسی کتابیں تیار کیں۔ جن میں بچوں کی نفسیات کے مطابق اسباق شامل کرتے ہوئے ا ن کی عمروں کا بھی خاص خیال رکھا گیا۔ ان کی درسی کتابیں ہزاروں مدارس اور اردو میڈیم اسکولوں کے نصاب میں شامل ہیں۔
published on VOAnews.com at

http://www1.voanews.com/urdu/news/arts-entertainment/ismael-mirathi-70187807.html

Tuesday, June 16, 2009

Raza Library Rampur: رضا لائبریری رامپور پر یادگاری ڈاک ٹکٹ

رامپور کی تاریخی رضا لائبریری ہندوستان کی ممتاز لائبریریوں میں ایک اہم مقام رکھتی ہے۔ ایک اطلاع کے مطابق مرکزی حکومت نے اس پر ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ گذشتہ ایک سال سے اس کی جد و جہد کی جا رہی تھی۔اس سلسلے میں اتر پردیش کے گوررنر ٹی وی راجیشور نے گذشتہ دنوں رضا لائبریری کا دورہ کیا تھا اور لائبریری میں تاریخی کتابوں کو بڑے اشتیاق کے ساتھ دیکھا تھا۔ جب انہیں اس کتب خانے کے بارے میں بتایا گیا تو انہوں نے انتہائی مسرت کا اظہار کیا۔یادگاری ڈاک ٹکٹ اتر پردیش کے گورنر جلد ہی جاری کریں گے۔
اس تاریخی کتب خانے کی بنیاد ریاست مصطفی آباد عرف رامپور کے نواب فیض اللہ خاں نے 17ستمبر 1774ءکو رکھی تھی۔لیکن اس میں کتابوں کا ذخیرہ نواب کلب علی خاں نے جمع کیا۔اس ممتاز کتب خانے میں 20 ہزارمخطوطات،82ہزار مطبوعہ کتب،160مصور مخطوطات،پانچ ہزار چھوٹی پینٹنگز اور تین ہزار اسلامی خطاطی کے نمونے محفوظ رکھے ہوئے ہیں۔اس میں عربی، فارسی، ترکی اردو، پشتو،ہندی اور سنسکرت کی نادر و نایاب کتابیں موجود ہیں۔ہرن کی کھال پر خلیفہ چہارم حضرت علی کے دست مبارک سے لکھی کتاب کے علاوہ طلائی حروف میں تحریر کردہ قرآن پاک کا نادر نسخہ بھی ہے۔لکھنوٴ کے چار باغ کے مغل باغ کی طرز پر کتب خانے کے باہر بنے باغ کی اپنی تاریخی اہمیت ہے۔
لائبریری کے قیام کے بعد نواب سید محمد سعید خاں بہادر نے اس کے لیے ایک الگ کمرہ مختص کیا۔لکڑی کی الماریاں تیار کی گئیں اور ایک افغانی اسکالر آغا یوسف علی محوی کو لائبریری کی ترتیب و تنظیم کے لیے معمور کیا گیا۔کتابوں کے لیے فارسی میں ایک مہر بنوائی گئی جس پر یہ شعر کندہ تھا:ہست ایں مہر بر کتب خانہ
والیِ رامپور فرزانہ
لائبریری کو نوادرات سے مالامال کرنے کے لیے نواب کلب علی خاں کی کوششیں کم قابل ذکر نہیں ہیں۔انہوں نے نایاب مخطوطے اور اسلامی خطاطی کے نمونوں کے لیے بے پناہ کوششیں کیں۔مختلف ملکوں کا دورہ کیا اورانہی کی وجہ سے لائبریری کو قرآن کریم کا وہ نسخہ ملا جو چمڑے پر لکھا ہوا ہے اور حضرت علی سے منسوب ہے۔
ان کے بعد نواب مشتاق علی خاں بہادر نے لائبریری کی ترقی و توسیع کے لیے بجٹ مختص کیا اور نئی عمارت کی تعمیر کی۔ان کے بعد نواب سر سید محمد حامد علی خاں (1875-1930)نے اپنے عہد میں عالی شان عمارتیں بنوائیں۔انہوں نے ہی خاص باغ میں قلعے کے اندر حامد منزل تعمیر کروائی۔اسی حامد منزل میں 1957ءمیں لائبریری منتقل کر دی گئی۔
ان کے فرزند نواب ڈاکٹر سر سید محمد رضا علی خاں (1906-1966)نے لائبریری کی تنظیم نو کی۔وہ ہندوستانی موسیقی کے دلدادہ تھے اس لیے انہوں نے موسیقی سے متعلق بہت سے نایاب مخطوطے خریدے۔1949ءمیں وفاق ہند میں رامپور ریاست کے الحاق کے بعد یہ لائبریری ٹرسٹ کے حوالے کر دی گئی اور یکم جولائی 1975ءکو پارلیمنٹ کے ایک ایکٹ کے تحت یہ لائبریری مرکزی حکومت کی تحویل میں چلی گئی۔
نواب رضا علی خاں سے موسوم یہ لائبریری اب ایک خود مختار قومی ادارہ ہے جہاں ملک و بیرون ملک کے دانش ور آتے ہیں اور فیض یاب ہوتے ہیں۔نوادرات اور مخطوطات کی وجہ سے عالمی سطح پر اس کی شناخت ہے۔نواب لوہارو کے علمی ذخیرہ کی شمولیت سے اس کی افادیت میں اور اضافہ ہوا۔علامہ شبلی نعمانی جیسے عالم اور مفکر نے جب اس لائبریری کی زیارت کی تو انہوں نے اعتراف کیا:’ہندوستان میں اس سے بہتر کوئی ذخیرہ نہیں۔میں نے شام، ترکی اور یورپ کی لائبریریاں بھی دیکھی ہیں اور میں کہہ سکتا ہوں کہ یہ ان تمام لائبریریوں سے زیادہ عمدہ ذخیرے کی حامل ہے۔‘
علوم و معارف کے اس قدیم خزینے کو دیکھ کر کویت میوزیم کے سابق ڈائرکٹر نے کہا تھاکہ کویت میوزیم سے زیادہ نایاب اور قیمتی مخطوطات یہاں ہیں۔تاریخ، فلسفہ، مذاہب، سائنس، آرٹ، ادب، طب، فلکیات، نجومیات، ریاضیات، طبقات الارض اور فنون لطیفہ سے متعلق مخطوطات یہاں ہیں،جن کی تفصیلات مولانا امتیاز علی خاں عرشی کی چھ جلدوں پر محیط عربی مخطوطات کی فہرست، حافظ احمد علی شوق کی مرتب کردہ فہرست اور حکیم محمد حسین خاں شفا کی مخطوطات رامپور میں دیکھی جا سکتی ہیں۔
اس کے علاوہ راجکمار منوہر اور راجکماری مدھو مالتی کی داستان عشق پر مبنی ملک منجن کی ’مد مالتی‘ اور ملک محمد جائسی کی اودھی زبان میں مشہور عشقیہ داستان ’پدماوت‘ کی مکمل کاپی صرف یہیں محفوظ ہے۔یہ واحد کتب خانہ ہے جہاں اونٹ کے چمڑے پر لکھا ہوا کوفی رسم الخط میں قرآن کریم کا ایک نسخہ محفوظ ہے جو حضرت علی سے منسوب ہے۔ بغداد کے وزیر اعظم ابن مقلہ کا لکھا ہوا قرآن کریم کا ایک نسخہ بھی صرف یہاں ہے اور کہیں نہیں۔مولانا امتیاز علی عرشی کے بقول، جو اس لائبریری کے ناظم تھے
:تاریخی کتابوں کے مطابق ابو علی محمد بن علی بن حسن بن عبداللہ بن مقلہ بیضاوی 272ہجری میں بغداد میں پیدا ہوئے۔ تین عباسی خلفا مقتدر باللہ، قاہر باللہ اور راضی باللہ کے دور میں وزارت کے عہدے پر فائز رہے۔حاسدین کی سازشوں کی وجہ سے انہیں جیل میں ڈال دیا گیا اور وہیں ان کے ہاتھ کاٹ ڈالے گئے۔مگر اس کے باوجود وہ اپنے بازو کے ساتھ قلم باندھ کر خطاطی کرتے تھے۔ثلث، ریحان، محقق، توقیع، نسخ اور رقع انہی کی ایجاد ہے۔ابجد کی نئی ترتیب بھی انہی کی دین ہے۔راضی باللہ کے عہد میں اس نابغہ روزگار کو قتل کر دیا گیا۔انہوں نے ہی کوفی خط کو ایک موڑ دے کر موجودہ نسخ خط بنایا تھا۔
تذکرہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ابن مقلہ نے اپنی زندگی میں قرآن مجید کی صرف دو کاپیاں تیار کی تھیں۔ان میں سے ایک نسخہ رضا لائبری میں موجود ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ صرف یہی ایک نسخہ ہزارہا پونڈ قیمت کا ہے۔اس کے علاوہ قرآن مجید کی سب سے پرانی تفسیر امام سفیان ثوری کی تفسیر ہے جس کا واحد نسخہ یہاں موجود ہے۔اس کی اہمیت کے پیش نظر لائبریری نے حکومت ہند کی مدد سے اسے شائع کر دیا ہے۔اس لائبریری میں شاہنامہ فردوسی، دیوان حافظ، سنسکرت کے پنج تنتر کا عربی ترجمہ اور کلیلہ و دمنہ کے مصور نایاب مخطوطے ہیں۔فارسی نستعلیق میں رامائن کا مصور نسخہ دیکھ کر ہندوستان میں سنگاپور کے سفیر نے کہا تھا کہ انہوں نے رنگین تصویروں والی ایسی قدیم کتاب نہیں دیکھی ہے۔
رضا لائبریری کا ایک امتیاز یہ بھی ہے کہ یہاں مغل، ترک، راجپوت، پہاڑی، اودھی اور فارسی منی ایچرز کے نایاب نمونے موجود ہیں۔خاص طور پر جلال الدین محمد اکبر کے بیٹے نور الدین سلیم جہاں گیر کی وہ پینٹنگ ہے جس میں وہ جھروکے سے باہر دیکھ رہے ہیں۔یہاں مصور مخطوطوں اور فارسی پینٹنگ کے بارے میں 276صفحات پر مشتمل ایک کتاب بھی ہے۔اس لائبریری سے مسیح الملک حکیم محمد اجمل خاں، حافظ احمد علی خاں شوق، علامہ نجم الغنی خاں اور ممتاز محقق مولانا امتیاز علی عرشی جیسی عظیم ہستیاں وابستہ رہی ہیں۔حکومت ہند نے اس عظیم الشان کتب خانے پر یادگاری ٹکٹ جاری کرنے کا فیصلہ کرکے قابلِ مبارکباد کام کیا ہے۔بلا شبہہ اس سے لائبریری کی نہیں بلکہ یادگاری ٹکٹ کی شان میں اضافہ ہوتا ہے۔

Thursday, May 14, 2009

دہلی میں ایک شام ڈاکٹر ستیہ پال آنند کے نام

سہ ماہی ادبی جریدہ ’ادب ساز‘ کے مدیر نصرت ظہیر کہتے ہیں:’ڈاکٹر ستیہ پال آنند کے فکر و فن کی تفہیم اردو ادب میں ان کی اس انفرادیت کے سبب بھی ضروری ہو جاتی ہے کہ پہلے انہوں نے اردو فکشن میں نام کمایا، اپنے عہد کے سبھی بڑے فکشن نگاروں سے اپنے فن کا لوہا منوایا اور پھر یک لخت اس تمام شہرت و مقبولیت کو دامن سے جھاڑ کر وادیِ شعر کی طرف ہجرت کر گئے کہ ہجرت چاہے زمینی ہو یا ادبی، ان کے لیے پہلے سے مقرر تھی۔۔۔اور اردو شاعری کی اس دنیا میں بھی جو پہلے ہی ضرورت سے زیادہ گنجان آباد تھی،وہ ایک نمایاں اور محترم مقام بنانے میں کامیاب رہے‘
اور جب گیارہ مئی کو دہلی کے غالب انسٹی ٹیوٹ میں ڈاکٹرستیہ پال آنند کے نام ایک خوبصورت شام منائی گئی تو ان کے فکشن پر بھی جم کر بحث ہوئی، ان کی شاعری پر بھی ہوئی اور ان کی ہجرت پر بھی ہوئی۔یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ جناب آنند نے فکشن میں خوب نام کمایا اور بڑے اور اپنے عہد کے قدآور فکشن نگاروں سے خراج تحسین وصول کیا۔ لیکن پھر جانے کیوں انھوں نے فکشن کی وادی کو خیرباد کہہ دیا۔ ان کو افسانہ نگاری ترک کیے ہوئے کم و بیش بیس سال ہو گئے ہیں۔ لیکن آج بھی ان کے افسانوں پر بحث ہوتی ہے اور ان کے کرداروں کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔اس موقع پر ایک اہم بات اور سامنے آئی کہ گرچہ انھوں نے بیس سال قبل وادی نثرسے ہجرت کر لی تھی لیکن آج بھی وہ جب چاہیں اس وادی میں خرام ناز کر سکتے ہیں۔ اس کے ثبوت کے لیے ان کا وہ افسانہ پیش کیا جا سکتا ہے جو انہوں نے اسی موقع کے لیے ایک روز قبل لکھا تھا اور جسے سنا کر انہوں نے مخصوص اور منتخب سامعین سے داد و تحسین کے پھول وصول کیے۔
اس افسانے میں انہوں نے اپنا ہی کردار پیش کیا ہے اور اپنی ہجرت اور اس کے کرب کو انتہائی خوبصورت کنائے میں پیش کیا ہے۔اس موقع پر جب انہوں نے اپنا کلام سنانے کا آغاز کیا تو اس کرب کا بھی ذکر کیا جو ان کی اہلیہ کے انتقال پر ان کو برداشت کرنا پڑا تھا۔وہی کرب اس افسانے میں بھی محسوس کیا گیا۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ انہوں نے ہجرت کی اذیت میں دوسروں کو بھی غیر محسوس طریقے سے شامل کر لیا۔اور اسی کے ساتھ یہ بھی جتا دیا کہ ایسا نہیں ہے کہ وہ اب واپس اپنے ملک نہیں جا سکتے۔وہ جائیں گے اور ضرور جائیں گے۔ اس افسانے میں ان کا ماضی بھی موجود ہے اور حال بھی اور مستقبل کی نادیدہ شام بھی۔کیونکہ وہ بہت پہلے اپنے ایک انٹرویو میں کہہ چکے ہیں کہ’ میں کوٹ سارنگ (ضلع چکوال، پنجاب، پاکستان) سے ہجرت کر کے گیا ہی نہیں، کوٹ سارنگ کو بھی ساتھ لے گیا۔کوٹ سارنگ میری شخصیت کا حصہ تب بھی تھا اور اب بھی ہے‘۔ لہذا ان کے لیے واپس اپنے ملک آنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے اور وہ نہ بھی آئیں تب بھی رہتے اپنے ملک ہی میں ہیں۔
اس خوبصورت شام کا اہتمام غالب انسٹی ٹیوٹ اور ادب ساز لٹریری فورم نے کیا تھا اور اس میں شہر کی چنندہ ادب نواز شخصیات نے شرکت کی۔ڈاکٹر وسیم راشد کی خوبصورت نظامت میں مجلس کے صدر سید شاہد مہدی، سابق وائس چانسلر جامعہ ملیہ اسلامیہ نے ڈاکٹر ستیہ پال آنند کے کلام پر جامع گفتگو کی اور کہا کہ ان کی نظم نگاری پر اتنا کام نہیں ہوا ہے جتنا کہ ہونا چاہئیے۔انہوں نے اسی کے ساتھ ادب کے تقابلی مطالعے پر اور زیادہ کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے اس موقع پر ستیہ پال آنند کی ایک نظم بھی پڑھ کر سنائی۔
عہدِ حاضر کے ابھرتے ہوئے نقاد اور اردو استاد ڈاکٹر مولی بخش اسیر نے ستیہ پال آنند کی نظموں کے حوالے سے نظم نگاری کے مختلف پہلووٴں پر تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی۔انہوں نے اپنی تقریر کی ابتدا صاحبِ شام کے افسانوں پر اظہار خیال سے کیا اور اس طرف اشارہ کیا کہ ڈاکٹر ستیہ پال آنند حقیقت کو افسانہ بنانے کے ہنر میں طاق ہیں۔کیونکہ حقیقت تفہیم سے بالاتر ہوتی ہے اور افسانہ بہت جلد سمجھ میں آجاتا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ اس کا افسوس نہیں ہونا چاہئیے کہ جناب آنند نے فکشن کو خیر باد کہہ دیا کیونکہ اگر ایک طرف انہوں نے ایسا کیا تو دوسری طرف انہوں نے نظم نگاری کی وادی کو اپنا لیا۔ان کا کہنا ہے کہ نظموں کی طرف ان کی مراجعت کی وجہ یہ ہے کہ وہ یہ بات جان چکے تھے کہ نظم کیا ہوتی ہے اور اس کے ذریعے کس طرح کام لیا جا سکتا ہے۔
مولی بخش اسیر نے نظم کو دیے کی لو قرار دیا اور کہا کہ نظم اپنے پیروں پر کھڑی ہوتی ہے۔ انہوں نے یہ یاد دہانی بھی کرائی کہ جناب آنند نے پہلے غزلوں کی وادی کی سیر کی،اس کے بعد وہ نظم کی طرف مڑے۔ بقول ان کے نظم کی ابتدا ثقافتی ضرورت کے تحت ہوتی ہے۔اس سلسلے میں انہوں نے نظیر اکبر آبادی کی مثال پیش کی اور کہا کہ انہوں نے بھی پہلے غزلیں کہی تھیں اور بعد میں نظم کی طرف مراجعت کی۔مولی بخش اسیر نے جناب آنند کے افسانوں اور نظموں میں اساطیری کرداروں پربھی کھل کر اظہار خیال کیا
۔ادبی تحریکات اور شخصیات کے حوالے سے اپنی شناخت قائم کرنے والے فاروق ارگلی نے ڈاکٹر ستیہ پال آنند کے فکر و فن پر ایک مقالہ پیش کیا اور کہا کہ ستیہ پال آنند کی تحریریں مغربی دنیا میں دور دور تک اپنی تابانی بکھیر رہی ہیں اور انہوں نے اجتہادی ادبی سفر میں اور فکر و فن کی وادی میں نئے راستے تلاش کیے ہیں اور نادر روزگار اسالیب و تراکیب سے ادب کو مالامال کیا ہے۔بقول ان کے اردو ادب میں ستیہ پال آنند نے بیش بہا اضافہ کیا ہے۔انہوں نے تخلیقی بصارتوں اور فکری بصیرتوں کے پھول کھلائے ہیں اور انہیں مغربی رنگ و آہنگ میں پیش کیا ہے۔بقول فاروق ارگلی ڈاکٹر ستیہ پال آنند اپنی طرز کے موجد بھی ہیں اور ابھی تک خاتم بھی ہیں۔وہ رجحان ساز ہیں اور کثیر الجہت فنکار ہیں۔
ماہر تعلیم، ادیب اور صحافی اطہر فاروقی، بلراج کومل دیویندر اسرّ اور شاہد ماہلی نے بھی ستیہ پال آنند کے فکر و فن پر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور ان سے اپنے دیرینہ رشتوں کی لویں روشن کیں۔ ڈاکٹر ستیہ پال آنند 24اپریل 1931ءکو کوٹ سارنگ ضلع چکوال، پنجاب (اب پاکستان) میں پیدا ہوئے۔انہوں نے انگریزی ادب میں ایم اے اور پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔تقسیم کے وقت وہ ہندوستان آگئے۔ لیکن ان کی ہجرت یہیں ختم نہیں ہوئی۔1988ءمیں وہ امریکہ منتقل ہو گئے۔ستیہ پال آنند 1961ءسے1971ءتک پنجاب یونیور سٹی میں شعبہ انگریزی میں لیکچرر اور ریڈراور ہیڈ رہے۔ بعد میں وہ 1971ءسے 1983ءتک پنجاب یونیورسٹی چنڈی گڑھ میں ڈائرکٹوریٹ آف کارسپانڈنس کورسز کے ڈائرکٹر رہے۔اس کے علاوہ وہ سعودی عرب میں 1992ءسے1994ءتک بطور تعلیمی مشیر خصوصی و پروفیسر انگریزی رہے۔ان کے ایک درجن سے زائد ناول اور افسانوں کے مجموعے اور تقریباً دس شعری مجموعے شائع ہوئے ہیں۔انہوں نے تراجم کے کام بھی خوب کیے ہیں۔جبکہ مختلف انعامات اور اعزازات سے بھی مالامال ہو چکے ہیں۔
ڈاکٹر ستیہ پال آنند تقابلی ادب کے استاد ہیں اور انگریزی میڈیم سے اردو پڑھانے میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔انہیں اکثر و بیشتر مختلف ملکوں میں لیکچر کے لیے اور مختلف پروجکٹوں پر کام کے لیے مدعو کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر آنند کہتے ہیں کہ ان کے انہی اسفار کے سبب ان کے دوستوں نے انہیں ’ائیر پورٹ پروفیسر‘ کہنا شروع کر دیا تھا۔’
ادب ساز‘ نے ڈاکٹر ستیہ پال آنند پر ایک قابل قدر گوشہ شائع کیا ہے جو ان کے فکر و فن کو سمجھنے میں معاونت کرے گا۔ اس گوشے میں ان کے فکشن کا بھی جائزہ لیا گیا ہے اور ان کی شاعری کا بھی۔اس کے علاوہ روز نامہ جنگ میں شائع ان کا ایک انٹرویو بھی شامل کیا گیا ہے جس میں انہوں نے بہت ہی عمدہ گفتگو کی ہے اور ادب کی مختلف تحریکوں اور رجحانات کے علاوہ اپنے ادبی نظریے پر بھی کھل کر بات کی ہے۔اسی انٹرویو میں وہ کہتے ہیں:میں کوٹ سارنگ سے ہجرت کر کے گیا ہی نہیں، کوٹ سارنگ کو بھی ساتھ لے گیا۔کوٹ سارنگ میری شخصیت کا حصہ تب بھی تھا اور اب بھی ہے۔میں اس کی فضا میں سانس لیتا ہوں اور اس میں جیتا ہوں اور اس کی یادوں کے سہارے یہ میرا ایک اٹوٹ انگ ہے۔۔۔اپنی زندگی کے اس حصے کو میں بتدریج بدلتے ہوئے ضرور دیکھتا ہوں۔لیکن ختم ہوتے ہوئے نہیں دیکھتا۔اس لیے میں نے جلا وطنی کا کرب 1947میں تو محسوس کیا، بعد میں اس کی شدت کم ہوتی چلی گئی۔
ایک سوال کے جواب میں وہ کہتے ہیں:مغربی طلبہ اردو کے رسم الخط سے ناواقف ہیں۔۔۔سبھی طلبہ انگریزی کی مدد سے دنیا کا ادب پڑھتے ہیں۔روسی، فرانسیسی، اطالوی، جرمن،جاپانی، چینی یا افریقی سبھی صرف اور صرف انگریزی کے توسط سے ان تک پہنچ سکتے ہیں۔اب دیکھنا یہ ہوگا کون سی اصناف ادب ترجمے کی زد میں آ سکتی ہیں۔ میرے خیال میں(اور میرے تجربے کی بنا پر)شعری ادب میں نظم ہے اور فکشن میں افسانہ۔میں نے وہاں انہی دو اصناف کے حوالے سے اردو ادب کو متعارف کروانے کی کوشش کی ہے اور میں اس کام میں کسی حد تک کامیاب بھی ہوا ہوں۔
غزل سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وہ کہتے ہیں:میں کون ہوتا ہوں یہ حکم صادر فرمانے والا کہ غزل جاری رہنی چاہئیے یا نہیں۔لیکن یہ کہنے کی جسارت ضرور کروں گا کہ غزل پر جتنا زور اس وقت صرف کیا جا رہا ہے یا گذشتہ دو تین صدیوں سے کیا جا رہا ہے،اسے Perspectiveمیں رکھ کر Hind Sightسے کچھEvaluationکریں تو بہتر رہے گا کہ ہم نے کیا کھویا کیا پایا۔بلکہ یوں کہئے کہ اگر یہ زور اس حد تک صرف نہ کیا جاتا تو ہم کیا کچھ پا سکتے تھے، جو ہم نے نہیں پایا اور اس لیے کھو دیا۔یہی ایک صنف ہے جو اسٹیج کی سب سے اونچی کرسی پر قابض ہے۔یہاں تک کہ دوسری اصناف سخن مثنوی، مسدس،رباعی، قطعہ، مخمس، شہر آشوب جیسی اصناف کو بھی غزل کھا گئی اور یہاں تک ہوا کہ اس کے اثرات نظم میں وارد ہو گئے۔میں غزل کو Literatureنہیں کہتا،Orature کہتا ہوں۔یعنی شاعر بھی اسے کلام یا سخن کہتا ہے، تحریر نہیں کہتا۔غزل کہی جاتی ہے، پڑھی جاتی ہے،سنی جاتی ہے، سنائی جاتی ہے۔یہ خود بخود بننے والی شے نہیں ہے، بنائی جانے والی چیز ہے۔اس میں آورد کا عنصر زیادہ ہے آمد کا کم ہے
۔اس گوشے میں وزیر آغا،بلراج کومل،آصف علی، شکیل الرحمن،گوپی چند نارنگ،فیصل عظیم،حقانی القاسمی،پریم کمار نظر،احمد سہیل،ریاض صدیقی، سید خالد حسین اوراعجاز راہی کی تخلیقات شامل ہیں جن میں ستیہ پال آنند کی نظم نگاری اور افسانہ نگاری پر اظہار خیال کیا گیا ہے۔جب کہ ستیہ پال آنند کے نام کالی داس گپتا رضا مرحوم کا ایک خط شائع کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ جناب آنند کا منتخب کلام بھی پیش کیا گیا ہے۔مزید براں فکر تونسوی، کنہیا لال کپور، ملک راج آنند، خواجہ احمد عباس،کرشن چند، موہن راکیش، راجندر سنگھ بیدی،رام لال،جوگندر پال،دیویندر ستیارتھی،اختر انصاری اکبر آبادی اور وشنو پربھاکر وغیرہ جیسے مشاہیر کی آرا بھی اس میں شامل کی گئی ہیں۔Keywords: satyapal anand, urdu, poet, nazm, delhi, evening

Friday, May 8, 2009

قمر رئیس کے انتقال سے ترقی پسند ادب کے ایک عہد کا خاتمہ


پروفیسر قمر رئیس کے انتقال سے نہ صرف ترقی پسند ادب کے ایک عہد کا حاتمہ ہو گیا ہے بلکہ دہلی کی علم و ادب کی فضا بھی سونی ہو گئی ہے۔وہ محتصر علالت کے بعد 29اپریل کو دہلی میں انتقال کر گئے۔ ان کی عمر 77سال تھی۔قمر رئیس کی پیدائش جولائی 1932ءمیں شاہجہان پور میں ہوئی تھی اور تدفین بھی وہیں ہوئی۔انہوں نے لکھنوٴ یونیورسٹی سے ایم اے اور ایل ایل بی کیا اور پھر مسلم یونیورسٹی سے 1959ءمیں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔اسی سال وہ دہلی یونیورسٹی میں شعبہ اردو میں لیکچرر ہوئے اور پھر ریڈر،پروفیسر اور صدر شعبہ بنے۔انہوں نے دہلی یونیورسٹی میں وزیٹنگ پروفیسر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔وہ ترقی پسند ادیبوں میں ایک نمایاں مقام رکھتے تھے اور کم و بیش دودرجن کتابوں کے مصنف بھی تھے۔ ان کا بنیادی کام پریم چند پر تھا۔وہ گذشتہ تین سال سے دہلی اردو اکیڈمی کے وائس چئیرمین تھے۔انہوں نے نہ صرف ترقی پسند ادیب کی حیثیت سے بلکہ اردو کے خادم کی حیثیت سے بھی کافی نام کمایا تھا۔ ان کی کوششوں کی بدولت ابھی حال ہی میں دہلی میں اردو کے 28اساتذہ کی تقرری کو مستقل کیا گیا ہے۔پروفیسر قمر رئیس تاشقند میں پانچ سال تک انڈین کلچرل سینٹر کے ڈائرکٹر رہے۔وہ پانچ بار انجمن اساتذہ اردو جامعات کے جنرل سکریٹری بھی رہے۔ انہوں نے 18سال تک انجمن ترقی پسند مصنفین کے جنرل سکریٹری کی حیثیت سے بھی حدمات انجام دیں۔وہ اردو کے پہلے پروفیسر تھے جنہیں یو جی سی نے نیشنل لیکچرار کے اعزاز سے نوازا تھا۔اس کے علاوہ 2001ءمیں تاشقند یونیورسٹی نے انہیں پی ایچ ڈی کی ڈگری تفویض کی تھی۔دہلی اردو اکیڈمی کے وائس چئیرمین کی حیثیت سے سابق ممبر پارلیمنٹ اور ترکمانستان میں ہند کے موجودہ سفیر جناب م افضل کے بعد اردو اکیڈمی کو سرگرم کرنے میں انہوں نے سب سے نمایاں رول ادا کیا تھا۔ان کے انتقال پر اردو حلقوں کی جانب سے تعزیتی نشستوں کا اہتمام جاری ہے اور ان کی خدمات کو یاد کیا جا رہا ہے۔معروف نقاد پروفیسر گوپی چند نارنگ نے قمر رئیس کے انتقال پر کہا ہے کہ ان کے اٹھ جانے سے پوری اردو دنیا سوگوار ہے۔وہ ترقی پسندی کے سنہرے دور کی یادگار تھے اور ترقی پسندوں کے ہراول دستے کے سرگرم رکن بھی تھے۔قمر رئیس نے علی سردار جعفری کے بعد ترقی پسند تحریک کے لیے تاریخی خدمات انجام دیں۔ پروفیسر نارنگ نے کہا کہ انہوں نے ہی ان کو مشورہ دیا تھا کہ وہ دہلی یونیورسٹی آجائیں جس پر انہوں نے عمل کیا۔مرحوم تنظیمی طور پر نہایت فعال شصد تھے۔وہ دوسروں سے کام لینے کا ہنر بھی جانتے تھے۔دہلی اردو اکیڈمی میں ان کی خدمات تاریخی نوعیت کی رہیں۔ان کے انتقال سے جو ادبی خلا پیدا ہوا ہے وہ آسانی سے پر نہیں ہوگا۔پروفیسر نارنگ نے مزید کہا کہ قمر رئیس ترقی پسندی سے وابستگی کے باوجود انتہا پسندی سے ہمیشہ دور رہے اور ترقی پسند افسانوی کے اولین مجموعے ’انگارے‘ پر اعتراض کے ذریعے انہوں نے اس کا عملی مظاہرہ کیا تھا،جس میں بعض اسلامی روایات پر تنقید ان کے نزدیک قابلِ تائید نہیں تھی۔جامعہ ملیہ اسلامیہ میں شعبہ اسلامک اسٹڈیز کے سربراہ پروفیسر اختر الواسع نے کہا کہ قمر رئیس نہ صرف ترقی پسند تحریک کے سرگرم کارکن تھے بلکہ انہوں نے بیرون ملک اردو کی ترویج و ترقی میں بھی اہم رول ادا کیا تھا۔تاشقند میں انڈین کلچرل سینٹر کے ڈائرکٹر کی حیثیت سے ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔قمر رئیس جہاں بھی رہے، انہوں نے وہاں اپنی چھاپ چھوڑی اور اردو کے فروغ اور ترقی کے لیے نمایاں کام کیے۔کل ہند انجمن ترقی پسند مصنفین نے بھی قمر رئیس کے انتقال کو اردو ادب میں ایک بڑا خلا قرار دیا ہے۔انجمن کے جنرل سکریٹری اور دہلی یونیورسٹی میں شعبہ اردو میں ریڈر علی جاوید کے مطابق پروفیسر قمر رئیس آخری عمر تک ترقی پسندتحریک سے وابستہ رہے اور ترقی پسند تحریک کی آبیاری کرتے رہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قمر رئیس کو انجمن کے بانی سجاد ظہیر، فیض احمد فیض، اعجاز حسین، احتشام حسین، رشید احمد صدیقی، اور آل احمد سرور جیسے ادیبوں اور دانشوروں کی سرپرستی حاصل رہی۔انہی اکابرین کی سرپرستی میں انہوں نے نہ صرف نظریاتی پختگی حاصل کی بلکہ ایک سرگرم تنظیم کار بھی بنے۔بقول علی جاوید قمر رئیس نے دہلی میں قیام کے دوران انجمن ترقی پسند مصنفین کو ایک فعال انجمن بنایا۔انہوں نے طلبہ کی ایک نسل کو نظریاتی تربیت دینے کا بھی کام انجام دیا۔غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے کہا کہ قمر رئیس اپنی زندگی اور فن کے حوالے سے انسانی اقدار کے نمائندہ تھے۔آپ کی صلاحیت کے معترف نہ صرف ہند وپاک کے دانش ور رہے بلکہ حکومت تاشقند نے بھی آپ کی گراں قدر خدمات کے لیے آپ کو اعزاز سے سرفراز کیا تھا۔قومی کونسل برائے فرروغ اردو زبان کے ڈائرکٹر ڈاکٹر محمد حمید اللہ بھٹ نے کہا کہ قمر رئیس جس مکتب فکر کی نمائندگی کرتے تھے اس نے اردو ادب کو زندگی کا ترجمان بنانے کی بڑی موثر کوششیں کیں۔ انہوں نے کہا کہ قمر رئیس ایک بالغ نظر نقاد ہونے کے ساتھ ساتھ خوش فکر شاعر بھی تھے۔منشی پریم چند پر ان کا کام بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔کچھ عرصہ قبل قمر رئیس کی شاعری کا مجموعہ بھی منظر عام پر آیا تھا جو اردو نظم کے سرمایے میں ایک قابل قدر اضافہ ہے۔جامعہ ملیہ اسلامیہ میں شعبہ اردو کے صدر پروفیسر شمس الحق عثمانی کے مطابق قمر رئیس فرض شناسی کے پیکر اور طلبہ کے لیے رول ماڈل تھے۔ جب کہ سابق صدر شعبہ پروفیسر قاضی عبید الرحمن ہاشمی کے مطابق وہ صرف ادیب ہی نہیں بلکہ سماجی مصلح بھی تھے اور بطور ادبی سفارتک ار ان کی نہایت غیر معمولی خدمات تھیں۔پروفیسر قمر رئیس کے انتقال پر جے این یو، دہلی یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور متعدد کالجوں اور اردو کی ادبی تنظیموں کی جانب سے تعزیتی نشستوں کا اہتمام جاری ہے۔جن میں پروفیسر قمر رئیس کے انتقال کو اردو ادب میں ایک بڑا خلا تصور کیا جا رہا ہے۔
Keywords: qamar rais, obituary, urdu, poet, critic, progressive writers movement, taraqqi pasand

Saturday, May 2, 2009

علامہ اقبال نے اردو زبان و ادبیات کو آفاقی وسعتوں سے ہم کنار کیا: ماہر اقبالیات پروفیسر عبد الحق

پروفیسر عبد الحق ماہرینِ اقبالیات میں ایک ممتاز مقام رکھتے ہیں۔ وہ دہلی یونیو رسٹی میں شعبہٴ اردو کے سربراہ کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں اور انہیں اقبالیات پر لیکچر دینے کے لیے ملک و بیرون ملک میں مدعو کیا جاتا ہے۔

شاعر مشرق،حکیم الامت ڈاکٹر علامہ اقبال کی برسی ابھی ابھی گزری ہے۔ اس موقع پر دہلی سمیت ملک کے کئی علاقوں میں اقبال پر لیکچر اور پرگراموں کا اہتمام کیا گیا۔اس موقع پرپروفیسر عبدالحق کو بھی مختلف شہروں میں اقبالیات پر لیکچر کے لیے مدعوکیا گیا۔اس مناسبت سے انہوں نے اردو وی او اے ڈاٹ کام کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں علامہ اقبال کی شخصیت،ان کے افکار و نظریات،فن و فلسفے اور شاعری پر کھل کر اظہار خیال کیا اور بہت سے مخفی گوشوں پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے علامہ اقبال کے نظریات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ علامہ آزادی کے علم بردار، مزدوروں کے ہم نوا اور سرمایہ داری کے مخالف تھے۔ انہوں نے جب 1904میں نظم ’تصویرِ درد‘لکھی تو وہ اردو ادب میں پہلی للکار تھی جس میں انہوں نے ہندوستانیوں کو خطراتِ افرنگ سے ہوشیار کیا تھا۔انہوں نے تحریک آزادی میں مختلف پہلوؤں سے ہندوستانیوں کو بیدار کرنے کی کوشش کی اور اسی کے ساتھ انہوں نے ہندوستان کی عظمت کے گیت بھی گائے۔عوام کے درمیان اتحاد کی دعوت دی اور فرنگی استحصال کی سازشوں سے باہر نکلنے کے لیے جھنجھوڑا بھی۔انگریزوں کو سب سے پہلے اقبال نے ہی چنگیز کہا تھا اور عوام کو مغرب کی فسوں کاری سے باخبر کیا تھا۔اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ یہ نہ لکھتے:

رلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کو
کہ عبرت خیز ہے تیرا فسانہ سب فسانوں میں
چھپا کر آستیں میں بجلیاں رکھی ہیں گردوں نے 
عنادل باغ کے غافل نہ بیٹھیں آشیانوں میں
وطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہے
تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں
نہ سمجھو گے تو مٹ جاوٴگے اے ہندوستاں والو
تمھاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں


پروفیسر عبد الحق بتاتے ہیں کہ ڈاکٹر اقبال نے حصول آزادی کے لیے تین محاذ قائم کیے تھے:

اول:ہند کی عظمت کا احساس دلانا۔
دوم:مختلف فرقوں کے درمیان محبت اور اخوت کا جذبہ پیدا کرنا۔
سوم:انگریزوں کے خلاف برسرپیکار ہونا۔

یہی وجہ ہے کہ انہوں نے 1904ءمیں ’سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا‘ لکھا۔ اس میں ملک کی عظمت کا بھی بیان ہے اور اخوت و محبت کا درس بھی ہے۔محبت کا جذبہ پروان چڑھانے کے لیے اقبال نے کہا:

محبت ہی سے پائی ہے شفا بیمار قوموں نے
کیا ہے اپنے بختِ خفتہ کو بیدار قوموں نے
محبت کے شرر سے دل سراپا نور ہوتا ہے
ذرا سے بیج سے پیدا ریاضِ طورہوتا ہے

ڈاکٹرعبدالحق کے مطابق اردو ادبیات میں علامہ نے سب سے پہلے اس قسم کے الفاظ استعمال کیے:اٹھو، جاگو، رست خیز، برخیز،انقلاب،از خواب گراں خواب گراں خواب گراں، کمر بستہ ہونا، کفن بدوش ہوناوغیرہ۔  اقبال کی شاعری احتجاجی پیغام کی شاعری ہے۔انگریزی اقتدار کے خلاف جتنی شدت سے جدوجہد اقبال کے یہاں ہے کسی اور کے یہاں نہیں ہے۔اسی طرح سرمایہ دارانہ اور استحصالی نظام کے خلاف سب سے پہلے اردو ادبیات میں اقبال نے آواز اٹھائی۔

علامہ اقبال کی ادبی فکر پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ علامہ صالح فکر کے طرف دار تھے اور کہا کرتے تھے کہ فکر کی گمراہی انسان کو حیوان بنانے میں بہت معاون ثابت ہوتی ہے،جب کہ صحت مند فکرکی تازہ کاری سے ہی قوت عمل مرئی پیکر وجود میں نمودار ہوتی ہے۔ جہان تازہ کی تخلیق کا یہ عمل مسلسل جاری رہتا ہے اور اس بدیہی حقیقت کے بعد تدبیر یا فکر پر پابندی عائد کرنا مہلک ہو جاتا ہے۔انہوں نے کہا ہے :

ندرتِ فکر و عمل کیا شے ہے،ذوقِ انقلاب
ندرتِ فکر و عمل کیا شے ہے، ملت کا شباب

انہوں نے مزید کہا کہ تصوراتی سطح پر فکر کے ساتھ ادب بھی وسعت طلب ہے۔کسی بھی تحریک کے زیر اثر تخلیق پانے والا ادب بھی اسی زمرے میں شامل ہے جو ادبی مطالبات بھی پورے کرتا ہے اور دین و دانش کی اقدار کی قندیل بھی روشن کرتا ہے۔دوسری طرف وہ ادب ہے جس کا حصہ اقدار کا حامل تو ہے مگر ادبی یا جمالیاتی انبسات سے خالی ہے۔اقبا ل نے اشارہ کیا ہے:
 
کوئی دل کشا صدا ہو عجمی ہو یا کہ تازی

بقول عبد الحق اقبال نے بار بار حوالوں سے یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ شاعری، صورت گری اور داستان سرائی تمام فنون لطیفہ انسانیت کی تعمیر میں معاون ہوں تو قابلِ قبول ورنہ بصورتِ دیگر قابلِ نفریں ہیں۔فن کا مقصد دائمی انبساط و عرفان کی بخشش ہے۔وہ فن جو خواب آور ہو اور خیالات میں گم ہو جانا سکھاتا ہو مذموم ہے۔اقبال نے تاکید کی تھی کہ وہ فن زہرناک ہے جو:

روح کو کرتے ہیں خوابیدہ بدن کو بیدار
یا
جس سے دلِ دریا متلاطم نہیں ہوتا وہ ہنر کیا

ایک سوال کے جواب میں پروفیسر عبد الحق نے کہا کہ مطالعہ اقبال کی مختلف اور متنوع تعبیریں ہمیں سرشار کرتی ہیں اور ہماری حیرتوں میں اضافے کا موجب بھی بنتی ہیں۔ہم اپنی سہولتوں اور سوچ کے مطابق اقبال کو زمان ومکان میں رکھ کر تفہیم کو آسان بنا لیتے ہیں۔اقبال بھی استفہامیہ کا سبب بنتے ہیں۔ وہ کبھی شاعرِ مشرق تو کبھی شاعرِ فردا پر اصرار کرتے ہیں۔ وہ نغمہ سرایانِ ہند ہیں مگر آہنگ حجازی کی ترجمانی کرتے ہیں۔وہ خیابان کشمیر کے پروردہ ہیں مگر روئے زمین کے کسی بھی حصے سے کوئی تعلق نہیں رکھتے۔ہماری نظر صرف ایشیا تک گئی، حقیقت یہ ہے کہ وہ ان حدود سے آزاد ہیں۔ امروزو فردا یا ایشیا بلکہ اس خاک داں سے کنارہ کشی کا وہ اعلان بھی کرتے ہیں اور حوروں اور فرشتوں کو اسیر کرتے ہیں:

یزداں بکمند آور اے ہمت مردانہ

پروفیسر عبد الحق کا کہنا ہے کہ ہم نے اقبال کی بیکراں بصیرت سے چشم پوشی کی ہے۔یہ نہ جانا کہ اقبال کی فکر و نظر پردہٴ وجود کو چیر کر تقدیر عالم کو بے حجاب دیکھتی ہے۔ان کی دروں بینی کائنات کے ماہ و سال کی تقویم ساز قوت رکھتی ہے اور ارض و سما کی پراسرار کیفیات کی رازدار ہی نہیں نگہ داری بھی کرتی ہے۔ اقبال روئے زمین کے تمام باشندوں کو خطاب کرتے ہیں۔ اس عمومی آواز میں کسی تفریق کو دخل نہیں۔  انقلابی آواز کے مخاطب تمام انسان اور سبھی آفاقی جہات ہیں:

اٹھو مری دنیا کے غریبوں کو جگا دو
عالم ہمہ ویرانہ ز چنگیزی افرنگ

اقبال کی شعری خصوصیات پر روشنی ڈالتے ہوئے وہ کہتے ہیں:

اقبال کی شاعری کے دو ایسے منفرد پہلو ہیں جس کی نظیر عالمی ادب میں شایدہی ملے۔ان کا کلام عصری واقعات و حادثات کا جام جہاں نما ہے جس میں رنج و راحت کے کئی پہلو بہت نمایاں ہیں۔دوسری انفرادیت یہ ہے کہ انہوں نے شعر و تخلیق کو عالمی معاملات و مسائل کی آگہی بخشی۔اردو زبان آفاقی وسعتوں سے ہم کنار ہوئی۔ جبکہ دوسرے ادب محدود تصورات میں پابند زنجیر رہے۔

ڈاکٹرعبد الحق نے ایک اہم نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ علامہ اقبال کی تخلیقات میں تیرہ سو سے زائد آثار و اماکن کے حوالے ہیں۔ ان کے کلام میں ایشیائی ملک و ملت کے علاوہ دوسرے ممالک کے نام بھی موجود ہیں۔ جیسے امریکہ، اندلس،انگلستان، جاپان، جرمنی، فرانس،مصر، ولایت، ہسپانیہ،یورپ اور یونان وغیرہ۔ان ملکوں اور شہروں کی تاریح و تحریک پر اور عصری کوائف پر اقبال کی نظر ہمیں حیرت میں مبتلا کر دیتی ہے۔ان کے بیانات کا یہ عالمی منظرنامہ ان کی بصیرت کے یقین کے لیے کافی ہے۔یہ دوسری بات ہے کہ ان کے قلب و نظر کو اس بر اعظم سے جو شیفتگی ہے وہ کسی دوسرے خطہ ارض سے نہیں ہے۔اقبال اور ان کے اسلاف کا مسکن و مدفن ہونے کے ساتھ ان کی تاریخ و تہذیب کا عروج و زوال بھی اسی خاک وخمیر سے وابستہ رہاہے۔ان کے سوز و ساز میں یہی ایشیا ہے جو روح جان وتن ہے:

سوز و ساز و درد و داغ از آسیاست
ہم شراب و ہم ایاغ از آسیاست

لیکن اقبال کو یورپ کے ہاتھوں ایشیا کا استحصال برداشت نہیں۔یورپ میں تین سال کے مختصر قیام نے ان کو ایک نئی آگہی بخشی تھی۔ اس کے ساتھ ہی مشرقی اقوام کے ساتھ مغربی فکر و فسوں کی عیاری کے دل خراش مشاہدات سے بھی اقبال متنفر ہوئے تھے۔ ہندوستانی ادبیات میں یورپ کے خلاف اقبال کا یہ پہلا اعلانیہ تھا:

دیارِ مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے

پروفیسر عبدالحق کا کہنا ہے کہ روسی انقلاب کو آفریں کہنے والے اقبال ہندوستانی ادبیات میں پہلے شخص تھے جنہوں نے اپنی بصیرت سے محکوم ایشیائی اقوام کے لیے اسے نوید صبح آزادی سمجھا۔لیکن وہ ایک طرف جہاں مغرب کی فسوں کاری سے مضطرب تھے وہیں مصطفی کما ل پاشا کے سیاسی نظریات سے د ل گرفتہ بھی تھے۔ جبھی تو انہوں نے کہا:

اگر عثمانیوں پرکوہِ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے
کہ خونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا

ڈاکٹر عبد الحق نے افغانستان اور فلسطین کے بارے میں بھی اقبال کے نظریات پر روشنی ڈالی۔انہوں نے بتایا کہ اقبال یہ کہنے پر مجبورہوئے:

خونِ اسرائیل آجاتا ہے آخر جوش میں
توڑ دیتا ہے کوئی موسی طلسم سامری

انہوں نے عرب و عجم کے حوالے سے اقبا ل کے نظریات پربھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اقبال کی بصیرت آج کی صورت حال کو بے پردہ دیکھ رہی تھی اور غیرت دلا رہی تھی۔انہیں اس کا شکوہ تھا کہ امیر عرب صرف نام و نسب کا حجازی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ وہ نہ حجازی ہے نہ غازی۔یہی شیخ حرم ہے جو گلیمِ بوذر اور چادرِ زہرا کو بیچ کھاتا ہے۔انہوں نے امت عربیہ کے ضمیر کو بھی للکارا تھا اور انگریزوں کی فسوں ساز حکمت عملی سے باخبر رہنے کی تاکید بھی کی تھی۔1923ءمیں ہاشمیوں کے ہاتھوں ناموس دین مصطفی کا سر بازار بکنا اقبال کو گوارا نہ تھا۔ ان کا یہ قول ضرب المثل بن گیا:

بیچتا ہے ہاشمی ناموسِ دینِ مصطفی

انہوں نے عربوں کی لوحِ تقدیر بھی پڑ ھ لی تھی اور بقول عبد الحق سرزمین عرب اقبال کے فیض نظر سے محروم رہی۔ مغربی آقاوٴں کی غلامی سے نجات حاصل نہ ہو سکی۔البتہ تھوڑی جنبش ضرور پیدا ہوئی اور اقبال کے اشعار کے تراجم اور مختلف تحریروں نے ایک تحریک پیدا کی اور پھر 1933ءمیں طارق بن زیاد کی دعا مستجاب ہوئی:

عزائم کو سینوں میں بیدار کر دے
نگاہِ مسلماں کو تلوار کر دے

عراق و حجاز کی طرح اقبال کو ایران سے بھی ایک گہری جذباتی وابستگی تھی۔وہ مطمئن تھے کہ ان کا پیغام ایران میں پہنچ چکا ہے۔علامہ اقبال عالمی امن کی خاطر جنیوا میں اقوام متحدہ کے قیام سے مطمئن نہ تھے۔ اسی لیے انہوں نے کہا تھا:

تہران ہو اگر عالمِ مشرق کا جنیوا
شائد کرہٴ ارض کی تقدیر بدل جائے

اقبال کو افغانستان اور کشمیر سے بھی جذباتی وابستگی تھی۔وہ کابل کو دہلی پر ترجیح دیتے تھے کیونکہ دہلی محکوم تھا اور کابل آزاد۔افغانستان اور وہاں کے جیالے نوجوانوں کے بارے میں اقبال نے متعدد اشعار اور نظمیں کہی ہیں۔

قبائل ہوں ملت کی وحدت میں گم
 کہ ہو نام افغانیوں کا بلند
محبت مجھے ان جوانوں سے ہے
ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند

اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا:

رومی بدلے شامی بدلے بدلا ہندوستان
تو بھی اے فرزندِ کہستاں، ابھی خودی پہچان
ابھی خودی پہچان
او غافل افغان 

ادھر کشمیر کی تحریک آزادی میں اقبال کے اقوال و اشعار کو شروع سے ہی دخل رہا ہے۔اقبال کو آتش چنار کی تمازت سے بڑی امیدیں تھیں:

جس خاک کے ضمیر میں ہو آتشِ چنار
ممکن نہیں کہ سرد ہو وہ خاکِ ارجمند

پروفیسر عبدالحق کہتے ہیں کہ علامہ نے 1936ءمیں یہ پیشین گوئی کی تھی کہ ایک وقت آئے گا جب یہودی نظام فکر و عمل کی صورت میں ہر محاذ پر حاوی ہوگا۔سب سے پہلے عیسائی اس کی زد میں ہوں گے، کلیساوٴں کے متولی یہودی ہوں گے اور مقتدی عیسائی ہاتھ باندھ کر ان کی امامت قبول کریں گے۔ساحل چین سے بحر روم تک انسانوں کی ہئیت اجتماعیہ کا تصور انہیں اکثر تڑپاتا رہا۔یہ اضطراب کسی نہ کسی حد تک موثر ہوا اور 1947ءکے بعد ترکی، ایران اور پاکستان کے علاقائی تعاون کی تنظیم نے جنم لیا۔ مسلم ممالک اور تیل پیدا کرنے والے ممالک کے متحدہ اداروں کے قیام میں بیداری کی بازگشت سنی جا سکتی ہے۔سارک ممالک کا اتحاد وجود میں آیا۔جنوب مشرقی ممالک میں تعاون کی انجمن قائم ہوئی۔ روس نے اپنے حلیف ملکوں کی دولت مشترکہ بنائی اور افرو ایشیائی ممالک کے باہمی اتحاد کی صورت بھی پیدا ہوئی۔

 Keywords: allama iqbal, urdu, poet, professor abdul haq, iqbaliologist, iqbal

Thursday, April 2, 2009

Aashiq-e-Rasool Surjeet Sing Lamba

سرجیت سنگھ لانبہ: ایک سچا عاشق رسول اور حافظ اقبال



نبی کے راستے کی خاک لوں گا
میں سب سے قیمتی پوشاک لوں گا

سردار سرجیت سنگھ لانبہ جب سیرت النّبی کے جلسوں میں یہ شعر پڑھتے ہیں تو ان پر داد وتحسین کے پھول برسنے لگتے ہیں۔یہ اور ایسے جانے کتنے نعتیہ اشعار اس بات کے گواہ ہیں کہ لانبہ صاحب ایک سچے عاشق رسول ہیں۔ان کی دو اور خصوصیات ہیں۔ وہ حافظِ اقبال بھی ہیں اور سفیرِ محبت بھی،اور ہندوستان اور پاکستان کے مختلف شہروں میں گھوم گھوم کر وہ محبت کی سوغات لٹاتے رہتے ہیں۔اس کے علاوہ وہ امریکہ کے کئی شہروں میں بھی سیرت النیی کے جلسوں سے خطاب کر چکے ہیں۔ان کو عاشقِ رسول اور حافظِ اقبال کا خطاب ہندوستان میں ملا ہے تو سفرص ِمحبت کا خطاب اہل پاکستان نے دیا ہے۔


امسال عید میلاد النّبی کے موقع پر انہیں سیرت کے متعدد جلسوں میں بلایا گیا اور انہوں نے رسول اللہ کی سیرت کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈال کر اپنے معتقدین کی تعداد میں اور اضافہ کر لیا۔ان سے گفتگو کیجئے تو ایسا لگتا ہے کہ عشق رسول کا ایک دریا ہے جو رواں دواں ہے،جذبات کا ایک طوفان ہے جو مخاطب کو بہا لے جا رہا ہے اور محبت کی ایک ٹھنڈی ہوا ہے جو اپنی خوشبو سے مشام جاں کو معطر کر رہی ہے۔انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ میں سیرت النّبی کے جلسے میں ایسی تقریر کی کہ لوگ عش عش کر اٹھے۔اس کے بعد دہلی کے دوسرے پروگراموں میں بھی انہیں مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کیا گیا اور انہیں سیرت پر تقریر کی دعوت دی گئی۔وہ 80کی دہائی سے ہی ہند وپاک اور امریکہ میں سیرت النبی کے جلسوں سے خطاب کرتے آرہے ہیں۔

سرجیت سنگھ لانبہ نے وائس آف امریکہ سے ایک خصوصی بات چیت میں کہا کہ کلام اقبال کے مطالعہ سے میرے دل میں رسول اللہ کی محبت جلوہ گر ہوئی اور پھر مجھ پر یہ محبت ایسی طاری ہوتی چلی گئی کہ میں اب کلام اقبال اور رسول اللہ کی سیرت کے موضوع کے علاوہ اور کسی موضوع پر گفتگو ہی نہیں کرتا۔

انہوں نے عشقِ رسول کے ثبوت میں سیرت کے موضوع پر ’قرآن ناطق‘ نامی ایک کتاب بھی تصنیف کی ہے۔وہ کہتے ہیں:

 ’آج جب ہم قرآن پاک کی تلاوت اور احادیث کا ذکر کرتے ہیں تو ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ کی مقدس زیارت کا شرف حاصل ہو رہا ہے۔اس حقیقت سے کون انکار کر سکتا ہے کہ آپ کی عظیم شخصیت ہمارے خراج عقیدت کی ہرگز محتاج نہیں۔میں تو صرف آپ کی ذات کے ساتھ اپنی جذباتی وابستگی، محبت، عقیدت اور اخلاص کے پھول پیش کرنا چاہتا ہوں۔ورنہ سچ بات تو یہ ہے کہ آپ کی ذات کی بلندیوں کا تصور کرنا انسان کے شعور سے بالا تر ہے۔‘
وہ مزید کہتے ہیں:
 ’جس مسلمان کا قلب عشقِ محمد سے معمور نہیں وہ مسلمان کہلانے کا مستحق نہیں۔جس مسلمان کا ایمان ابراہیم کا ایمان نہیں وہ مسلمان نہیں، جس مسلمان کا زاویہ نگاہ الفقر فخری نہیں وہ بھی مسلمان کہلانے کاحق دار نہیں، بابا نانک صاحب فرماتے ہیں کہ سچا مسلمان وہ ہے جو دیا بھاؤ کی مسجد بنائے، شردھا کو مصلی اور حق کی کمان کو قرآن سمجھے، شرم کو سنت اور اچھے برتاؤ کو روزہ جانے۔‘

سرجیت سنگھ لانبہ مزید کہتے ہیں کہ حضور کی ذات گرامی کے کشف نے مجھے اپنی جانب کھینچا۔ اسلام دامن سمیٹنے کا نہیں بلکہ دامن پھیلانے کا نام ہے۔حضور کی تعلیمات کو عام کرنے اور ان پر عمل کرنے کی آج عالم اسلام کو جتنی ضرورت ہے اتنی کبھی نہیں تھی۔آج انسانیت سسک رہی ہے اور اس کو اللہ کے رسول کی تعلیمات کے مرہم کی ضرورت ہے۔

انہوں نے اپنی تصنیف ’قرآن ناطق‘ کے بارے میں بتایا کہ ’ میں نے بارگاہ رسالت میں اپنی عقیدت اور محبت کے پھول پیش کرنے کی کوشش کی ہے ورنہ حضور کی ذات و صفات کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔‘

خیال رہے کہ ان کی اس تصنیف پر ہندوستان، پاکستان اور خلیجی ملکوں کے متعدداخبارات نے اظہار خیال کرتے ہوئے خراج تحسین پیش کیا ہے۔قرآن ناطق سے قبل انہوں نے ’نذر خسرو‘ نامی کتاب لکھ کر علم و ادب کے حلقوں سے داد و تحسین وصول کی تھی۔

سرجیت سنگھ لانبہ کو مطالعہ اقبال کے راستے پرعشق رسول کی دولت حاصل ہوئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ  علامہ اقبال کے مطالعہ نے میرے دل میں عشقِ رسول کی جوت جگائی ہے۔
لانبہ صاحب کوحافظ اقبال بھی کہا جاتا ہے اور ان سے گفتگو کیجئے تو یقین ہو جاتا ہے کہ ان کو یہ خطاب غلط نہیں دیا گیا ہے۔کلیات اقبال کی بے شمار نظمیں، غزلیں اور ربائیاں ان کو پوری طرح ازبر ہیں اور بات چیت کے دوران وہ اقبال کے کلام سے مثالیں دیتے جاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں :

’ میں علامہ اقبال کے فلسفہ خودی سے بے حد متاثر ہوں۔اس فلسفے سے انسان خود سے متعارف ہوتا ہے۔حکیم الامت کا تمام فلسفہ قرآن مجید کی تعلیمات پر مشتمل ہے یا ان کی تشریح کرتا ہے۔‘

جب لاہور کی اقبال اکیڈمی نے 1980ءمیں اقبال ڈے کے موقع پر ان کو مدعو کیا تھا تو انہوں نے علامہ اقبال کے مزار پر جاکر فاتحہ پڑھی تھی۔وہ جاوید منزل میں واقع اقبال میوزیم میں بھی گئے تھے۔وہ بتاتے ہیں کہ وہاں انہوں نے مختار بیگم کی تصویر دیکھی جو کہ علامہ کی دوسری بیوی تھیں۔لیکن اس کے نیچے کیپشن لکھا تھا کہ ’معراج بیگم۔ علامہ کی اہلیہ‘۔ لانبہ صاحب کے مطابق اس پر انہیں بڑی حیرت ہوئی کیونکہ معراج بیگم علامہ کی بیٹی تھیں جو پہلی بیوی کریم بی بی سے پیدا ہوئی تھیں۔انہوں نے اس فاش غلطی کی طرف جسٹس جاوید اقبال اور منیرہ بانو کی توجہ مبذول کرائی۔ 1983ءمیں جسٹس جاوید اقبال نے لانبہ صاحب کو خط لکھ کر بتایا کہ اس غلطی کی اصلاح کر دی گئی ہے۔

سرجیت سنگھ لانبہ 1931ءمیں راولپنڈی میں پیدا ہوئے تھے اور اس کے بعد ہندوستان آگئے اور یہاں ایک عرصے تک وہ وزارتِ قانون میں ایک اعلی عہدے پر فائز رہے۔وہ اپنی تقاریر میں قرآن کی آ یات اور احادیث کو بالکل اسی طرح پڑھتے ہیں جیسے کہ علمائے دین پڑھتے ہیں۔اور جب وہ خطاب کرتے ہیں تو یہ نہیں لگتا کہ کوئی غیر مسلم بول رہا ہے۔اس بات پر پاکستان ٹائمز نے لکھا ہے کہ یہ حیرت انگیز بات ہے کہ اللہ کے رسول سے عشق اور قرآن و احادیث کے گہرے مطالعہ کے باوجود وہ مشرف بہ اسلام کیوں نہیں ہوتے۔ پھر اخبار خود ہی لکھتا ہے کہ ممکن ہے کہ کوئی مجبوری ہو جس کی وجہ سے وہ اپنے ایمان کا اعلان نہیں کر پا رہے ہیں۔
اس کے باوجود لانبہ صاحب کو یہ یقین ہے کہ ایک روز وہ مدینہ شریف کے سفر کا قصد ضرور کریں گے اور رسول اللہ کے روضہ مبارک پر حاضری دیں گے۔ان کا یہ شعران کے اس جذبے کے اظہار کے لیے کافی ہے:

اللہ نے دی مجھ کو توفیق اگر لانبہ
دن گزرے گا مکے میں اور رات مدینے میں

خیال رہے کہ اس سے پہلے ایک اور سکھ شاعر کنور مہیندر سنگھ بیدی سحر نے عشق رسول کے موضوع پر یہ شعر کہہ کر دھوم مچا دی تھی کہ

عشق ہو جائے کسی سے کوئی چارہ تو نہیں 
صرف مسلم کا محمد پہ اجارہ تو نہیں

اور اب ایک دوسرے سکھ شاعر اور عاشق رسول نے اپنے کلام اور خطاب سے دھوم مچا رکھی ہے۔
لانبہ صاحب بتاتے ہیں کہ ان کے ایک پاکستانی دوست نے حضور کے روضے سے ایک تسبیح لاکر انہیں دی ہے جو گدشتہ 26 برسوں سے ان کے گلے میں پڑی ہوئی ہے۔

پاکستان کے متعدد اداروں کی جانب سے ان کو سفیر محبت کا لقب دیا گیا ہے اور یہ بات کہی گئی ہے کہ لانبہ صاحب نے جس طرح دونوں ملکوں کے مابین محبت کو عام کرنے کی کوشش کی ہے اگر وہی کوشش سیاست داں بھی کرتے تو بہت بڑی بات ہوتی۔ہندوستان کے متعدد اداروں، تنظیموں اور جماعتوں نے انہیں توصیفی اسناد سے نوازا ہے اور سید حامد، مولانا عبید اللہ اعظمی، پروفیسر اختر الواسع، علامہ اخلاق حسین قاسمی،پروفیسر اے آر قدوائی،پروفیسر مقصود جعفری امریکہ،صلاح الدین ناصر نیو یارک، شاہ کوثر چشتی نیو یارک اور ہندوستان و پاکستان کے بے شمار دانش ور، مفکرین اور علما ان کے قدردانوں اور معتقدین میں شامل ہیں۔

Keywords: Surjit Singh Lamba, writer, Urdu, prophet Muhammad, naat, na'at

Sunday, March 29, 2009

Present Urdu Poetry

ادب ایک بہتا ہوا دریا ہے جو کھیتیوں کو سیراب کرتا ہے:گوپی چند نارنگ


March 24, 2009


’ادب پرانے ادوار کی نام نہاد مقصدیت اور لایعنیت دونوں سے آگے نکل آیا ہے اور غزل چونکہ رمزیہ و ایمائی شاعری ہے، اس لیے اس میں یہ تبدیلی نسبتاً تہہ نشین ہے۔البتہ نظمیہ شاعری میں بدلتے ہوئے نقوش واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں اور ادب تو بہتا ہوا دریا ہے جو کھیتیوں کو سیراب کرتا ہے۔‘

ان خیالات کا اظہار ممتاز ادیب و نقاد پروفیسر گوپی چند نارنگ نے ساہتیہ اکیڈمی کے زیر اہتمام ایک سیمینار میں کیا ہے جو معاصر اردو شاعری کے موضوع پر منعقد ہوا۔انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ ادبی منظر نامے میں بہت کچھ بدل گیا ہے لیکن اکثر لوگوں کو اس کا احساس نہیں ہے۔موجودہ عہد نظریوں کے رد کا دور ہے۔ مابعد جدیدیت ادب کو ایجنڈا یا لائحہ عمل دینے کے خلاف ہے۔تعجب ہے کہ وہی لوگ جو تنقید کی بالادستی کی شکایت کرتے ہیں تنقید سے پروگرام دینے کا مطالبہ بھی کرتے ہیں۔مابعد جدیدیت کا کہنا ہے کہ ادیب کو پروگرام دینا اس کی آزادی کو ختم کرنا ہے کیونکہ ہر نظریہ ادعائیت کی طرف لے جاتا ہے۔ یہ بعینہی ایسا ہے جیسے ریشم کا کیڑا اپنے گرد جالا بنتا ہے اور بالآخر اسی میں گھٹ کر مر جاتا ہے۔

گوپی چند نارنگ نے اپنے افتتاحی خطبے میں کہا کہ نیا عہد ادیب سے فقط یہ مطالبہ کرتا ہے کہ وہ آزادانہ طور پر خود اپنے ذہن و شعور سے سوچے اور دانشوری کی نئی فکریات کی روشنی میں اپنی اقداری ترجیحات خود طے کرے۔انہوں نے کہا کہ زبان و فن کے وسائل پر قدرت اور روایت سے آگہی ہمیشہ سے لازم رہی ہے۔ البتہ اجنبیت، بیگانگی، بے معنی علامیت اور اشکال پسندی کا زمانہ گزر گیا۔ادب پھر سے اپنے قاری سے جڑنے لگا ہے اور زندگی اور سماجی مسائل سے بے تعلقی بھی ختم ہو رہی ہے۔سماجی سروکار اور آئڈیا لوجی کا مطلب کسی دئے ہوئے ایجنڈے یا پارٹی لائن کی پیروی نہیں۔ بلکہ ضرورت ہے کہ تخلیق کار سماجی بے انصافی کے خلاف آزادانہ اپنے منصب کا استعمال کرے اور ثقافتی تشخص یا تہذیبی جڑوں پر اصرار بھی اسی راہ سے ہے۔انہوں نے تخلیق کاروں کو تازہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے ولی کا یہ شعر پڑھا:

راہِ مضمون تازہ بند نہیں
تا قیامت کھلا ہے باب سخن

اس موقع پر مہمان خصوصی اور معروف شاعر مظہر امام نے کہا کہ ادب کا مطالعہ دل جمعی کے ساتھ کیا جانا چاہئیے۔انہوں نے نئے اسالیب اور نئے موضوعات کا ذکر کرتے ہوئے نئی شاعری کے امکانات پر بھی روشنی ڈالی۔

کینیڈا سے آئے ہوئے محقق، نقاد اور شاعر ڈاکٹر سید تقی عابدی نے معاصر اردو شاعری کے موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ معاصر اردو شاعری کسی بھی نوع کی بالا دستی اور نظریاتی حصار کے خلاف ہے۔موجودہ ادبی منظرنامے میں جو شاعری پروان چڑھ رہی ہے وہ اپنی اقداری ترجیحات خود طے کر رہی ہے اور آج کی شاعری پوری طرح معیاری ہے۔تقی عابدی نے مزید کہا کہ ہمارے آج کے شعرا آزادانہ فکر و خیال کی ترجمانی میں یقین رکھتے ہیں اور تمام تر قیود بند سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ثقافتی تشخص اور تہذیبی جڑوں پر اصرار ان کا تخلیقی رویہ بن چکا ہے۔معاصر اردو شاعری سے جو لوگ مایوس ہیں انہیں اپنی رائے میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔

دہلی یونیورسٹی میں سابق صدر شعبہ اردو پروفیسر صادق نے کہا کہ اردو غزل مقبول ترین صنف ہے۔ آج ہندوستان کی تمام زبانوں میں غزلیں کہی جا رہی ہیں،حتیٰ کہ سنسکرت میں بھی غزلیں کہی جا رہی ہیں۔

مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے شعبہٴ اردو کے صدر پروفیسر ابو الکلام قاسمی نے معاصر اردو شاعری میں خواتین شعرا کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معاصر شاعرات مختلف جہات سے ادبی منظرنامے پر اپنے استحقاق اور شناخت کے لیے جہدِ مسلسل میں مصروف ہیں۔پرانی شاعرات نے حسن و عشق،دلکشی اور شمع محفل بنے رہنے کو پیش نظر رکھا تھا مگر آج کی شاعرات ساری دنیا میں اپنی حیثیت، سماجی، تہذیبی اور ادبی برابربی کے لیے ہر طرح سے کوشاں ہیں۔دراصل یہ فیمینزم یا تانیثیت کا مسئلہ مابعد جدید رویوں سے مربوط ہے۔ اس لیے نظر انداز کیے جانے والے طبقات کو جو سامنے لانے کی کوشش کی جا رہی ہے ان میں عرصے سے نظر انداز کی جانے والی عورت کو اب بدلتی ہوئی صورت حال میں اپنے رد عمل کا اظہار کیسے کرنا چاہئے، اسی باعث ان کے یہاں جارحیت بھی ہے، حق طلبی بھی ہے،احتجاج اور تلخی بھی ہے۔اس سے قبل انہوں نے ’اردو غزل کا جدید اور مابعد جدید منظرنامہ‘ پر عمدہ مقالہ پیش کیا۔

نظام صدیقی نے نئے عہد کی شعری تخلیقیت کی تیسری کائنات کے موضوع پر کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ نئی نسل کی شاعری معیاری ہے اور اس نسل سے بہت سی امیدیں وابستہ ہیں۔

اس سہ روزہ سیمینار میں جو مقالے پیش کیے گئے ان کی تفصیل یوں ہے:

معاصر اردو غزل کے امتیازات(اجے مالوی) 80 کے بعد اردو غزل کا تنقیدی جائزہ(سیفی سرونجی)،معاصر اردو نظم ایک تنقیدی جائزہ(ڈاکٹر انور پاشا)، معاصر اردو نظم کے اہم نشانات(ڈاکٹر شہزاد انجم)،80 کے بعد کی نظم اور اس کا اسلوب(ڈاکٹر کوثر مظہری)،80 کے بعد اردو نظم کا منظرنامہ (ڈاکٹر خالد محمود)80کے بعد آزاد نظم (ارتضیٰ کریم)،80کے بعد نثری نظم( امتیاز احمد)،برصغیر کی معاصر خواتین: امتیازی نشانات(چودھری ابن انصیر)، تانیثیت اور معاصر اردو شاعری(حقانی القاسمی)،ہندوستان کی اہم معاصر خواتین شعرا اور ان کے مسائل(وسیم بیگم)،بر صغیر کی معاصر اردو شاعری اور عصری مسائل(شمیم طارق)،بر صغیر کی معاصر اردو شاعری میں دلت رجحان(محمد شاہد پٹھان)۔

اس سہ روزہ سیمینار میں ملک و بیرون ملک کی معتبر اردو شخصیات نے شرکت کی۔تینوں روز شام کے وقت مشاعرے کا بھی اہتمام کیا گیا۔

Keywords: sahitya academy, seminar, gopi chand narang, abul ul kalam qasmi, urdu, literature

Publisged at VOAnews.com at http://www.voanews.com/urdu/2009-03-24-voa14.cfm