Showing posts with label Education. Show all posts
Showing posts with label Education. Show all posts

Saturday, December 12, 2009

مطالعات غالب میں حکیم عبد الحمید کی ناقابل فراموش خدمات

ہندوستان میں ہمدرد دواخانہ کے بانی حکیم عبد الحمید غالب کے بہت بڑے مداح تھے۔ انھوں نے مزار غالب کی تعمیر کے سلسلے میں نمایاں کوششیں کی تھیں ۔ انھوں نے ہی مزار سے متصل ایک بڑا قطعہ اراضی خرید کر اس پر غالب اکیڈمی کی تعمیر کروائی۔ غالب پر ان کی مرتب کردہ تین کتابیں ’حالات غالب‘ ’مطالعات خطوط غالب‘ اور ’مطالعات کلام غالب‘ شائع ہوئی ہیں۔جبکہ غالب اکیڈمی میں ان کی کوششوں سے قائم غالب میوزیم لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کیے ہوئے ہے۔

دارالسلطنت نئی دہلی کے علاقے بستی حضرت نظام الدین میں واقع غالب اکیڈمی میں گذشتہ روز ’مطالعات غالب میں حکیم عبد الحکیم کی خدمات‘ کے زیر عنوان ایک پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس میں درگاہ حضرت نظام الدین اولیا کے سجادہ نشین خواجہ حسن ثانی نظامی نے، جو کہ حکیم عبد الحکیم کے ایک قریبی دوست رہے ہیں، کلیدی خطبہ پیش کیا اور مطالعات غالب میں حکیم صاحب کی خدمات پر تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی۔انھوں نے بتایا کہ حکیم صاحب غالب کے بہت بڑے مداح تھے۔ اسی لئے انھوں نے مزار غالب سے متصل غالب اکیڈمی قائم کی تاکہ غالب کی تفہیم و ترویج میں مدد مل سکے۔
خواجہ حسن ثانی نظامی نے مزار غالب کی تعمیر کے سلسلے میں ملک کے مختلف حصوں میں کیے جانے والے چندے کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ کس طرح بہت سے لوگوں نے ان کے مزار کے لیے چندے جمع کیے اور ہضم کر گئے۔ انھوں نے مزار غالب کی تعمیر کے سلسلے میں فلم ساز سہراب مودی کے تعاون سے متعلق پھیلی غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اس بارے میں کوئی تعاون نہیں دیا تھا۔ ان کا تعاون بس اتنا تھا کہ انھوں نے مزار غالب پر چادر چڑھائی اور وہاں کھڑے ہو کر تصویر بنوا ئی۔ اور اس طرح ایک غلط فہمی پھیل گئی۔

غالب اکیڈمی کے سکریٹری ڈاکٹر عقیل احمد نے غالب سے حکیم عبد الحمید کی محبت اور عقیدت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ غالب اکیڈمی کے قیام کا منصوبہ انھوں نے 1935ہی میں بنا لیا تھا۔ اسی سال انھوں نے مطالعات غالب کی خاطر غالب اکیڈمی قائم کرنے کے لیے مزار غالب سے متصل ایک قطعہ اراضی خریدا۔ بعد میں اس پر ’غالب اکیڈمی‘ کے نام سے ایک تین منزلہ عمارت تعمیر کی گئی اور غالب صدی تقریبات کے دوران 22فروری 1969کو اس وقت کے صدر جمہوریہ ڈاکٹر ذاکر حسین نے اس عمارت کا افتتاح کیا۔اسی موقع پر یوسف حسین مرحوم کی کتاب ’غالب اور آہنگ غالب‘، ہندی میں ’سرل غالب‘ اور انگریزی میں ’نوائے سروش‘ کے نام سے غالب پر تین کتابیں غالب اکیڈمی سے شائع کی گئیں۔غالب اکیڈمی کی جانب سے غالب پر اب تک دو درجن سے زائد کتابیں شائع کی جا چکی ہیں۔

ڈاکٹر عقیل نے مزید بتایا کہ حکیم صاحب کے ذاتی ذخیرے سے غالب اکیڈمی کی عمارت میں میوزیم اور لائبریری بھی قائم کی گئی۔

انھوں نے کہا کہ حکیم صاحب نے غالب کے کلام کو موسیقی کے ذریعے پھیلانے کی بھی کوشش کی اور انہی کی کوششوں سے موسیقی کے ساتھ کلام غالب گانے کا سلسلہ شروع کیا گیا جو کئی سالوں سے اب بھی جاری ہے۔ حکیم صاحب نے غالب کی غزلوں کے کیسٹ اور فلاپی بھی بنوائی تھی (اس وقت سی ڈی کا رواج شروع نہیں ہوا تھا)۔اس طرح انھوں نے موسیقی کی مدد سے غالب کی غزلوں کو پوری دنیا میں پھیلانے کی کوشش کی تھی۔

حکیم صاحب 1935سے ہی غالب پر لکھی گئی تحریریں یکجا کرتے رہے اور ان کو مختلف عنوانات کے تحت فائلوں میں محفوظ کرتے رہے ہیں۔انہی فائلوں کے مضامین کے انتخاب سے تین کتابیں غالب کی سوانح، غالب کی نثر اور غالب کی شاعری ترتیب پائی تھیں۔پہلی کتاب 1999میں ’حالات غالب‘ کے نام سے شائع ہوئی۔ اس کے بعد دوسری کتاب ’مطالعات خطوط غالب‘ حکیم صاحب کے سوویں یوم پیدائش پر شائع کی گئی اور اب تیسری کتاب ’مطالعات کلام غالب‘ غالب اکیڈمی نے شائع کی ہے۔

ہمدرد آرکائیوز ریسرچ سینٹرکے ڈائرکٹر سید اوصاف علی نے بھی، جنھوں نے چالیس سال تک حکیم عبد الحمید کے ساتھ کام کیا ہے، غالب سے حکیم صاحب کی عقیدت و محبت پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے بتایا کہ حکیم صاحب غالب میوزیم قائم کرنے کے سلسلے میں بہت پرجوش تھے۔انھوں نے غالب کی پسندیدہ اشیاکو یکجا کرواکر میوزیم میں رکھوایا۔ یہاں تک کہ غالب کو بخارہ کی خمیری روٹی بہت پسند تھی ،لہذا جب میں ایک پروگرام کے تحت بخارا گیا تو حکیم صاحب نے مجھ سے وہاں کی روٹی منگوائی اور وہ روٹی آج بھی میوزیم میں رکھی ہوئی ہے۔

اس میوزیم میں غالب کے پسندیدہ کھانوں کے علاوہ غالب کے لباس بھی رکھے ہوئے ہیں اور ان کا ایک قد آدم مجسمہ اور یہاں تک کہ اس ڈومنی کا بھی مجسمہ نصب ہے، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ غالب کی محبوبہ تھی۔ اس کے علاوہ ایک مصور برجیندر سیال نے غالب کے اشعار کے مفہوم کو سنگ ریزوں کی مدد سے سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ مثال کے طور پر :

نقش فریادی ہے کس کی شوخی تحریر کا
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا

اس شعر کے مفہوم کو اجاگر کرنے کے لئے ایسے سمندری پتھر ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ کرکے رکھے ہوئے ہیں جو انسانی شبیہ کا تصور اور مذکورہ شعر کا مفہوم پیش کر رہے ہیں۔

اس پروگرام میں یونیورسٹیوں کے اساتذہ نے بھی مطالعات غالب میں حکیم عبد الحمید کی خدمات پر روشنی ڈالی۔

اس موقع پر غالب اکیڈمی سے شائع کتاب ’مطالعات کلام غالب‘ کی رسم رونمائی بھی ہوئی، جس میں خواجہ حسن ثانی نظامی، گلزار دہلوی، سید اوصاف علی، ڈاکٹر عقیل احمد اور دوسرے لوگ شامل تھے۔

اس کتاب میں کل چالیس مضامین ہیں جو 1953سے لے کر 1998تک کے دوران مختلف اخبارات و رسائل میں شائع ہوئے ہیں۔ مضمون نگاروں میں پروفیسر سید احتشام حسین، ماہر غالبیات مالک رام، ظ۔ انصاری، پروفیسر آل احمد سرور، سید عابد علی عابد، وحید قریشی، فرمان فتح پوری، کالی داس گپتا رضا، گیان چند جین، جگن ناتھ آزاد اور سید مسعود حسین رضوی ادیب جیسے نامور قلمکار اور ماہرین غالبیات شامل ہیں۔

Tuesday, June 16, 2009

Raza Library Rampur: رضا لائبریری رامپور پر یادگاری ڈاک ٹکٹ

رامپور کی تاریخی رضا لائبریری ہندوستان کی ممتاز لائبریریوں میں ایک اہم مقام رکھتی ہے۔ ایک اطلاع کے مطابق مرکزی حکومت نے اس پر ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ گذشتہ ایک سال سے اس کی جد و جہد کی جا رہی تھی۔اس سلسلے میں اتر پردیش کے گوررنر ٹی وی راجیشور نے گذشتہ دنوں رضا لائبریری کا دورہ کیا تھا اور لائبریری میں تاریخی کتابوں کو بڑے اشتیاق کے ساتھ دیکھا تھا۔ جب انہیں اس کتب خانے کے بارے میں بتایا گیا تو انہوں نے انتہائی مسرت کا اظہار کیا۔یادگاری ڈاک ٹکٹ اتر پردیش کے گورنر جلد ہی جاری کریں گے۔
اس تاریخی کتب خانے کی بنیاد ریاست مصطفی آباد عرف رامپور کے نواب فیض اللہ خاں نے 17ستمبر 1774ءکو رکھی تھی۔لیکن اس میں کتابوں کا ذخیرہ نواب کلب علی خاں نے جمع کیا۔اس ممتاز کتب خانے میں 20 ہزارمخطوطات،82ہزار مطبوعہ کتب،160مصور مخطوطات،پانچ ہزار چھوٹی پینٹنگز اور تین ہزار اسلامی خطاطی کے نمونے محفوظ رکھے ہوئے ہیں۔اس میں عربی، فارسی، ترکی اردو، پشتو،ہندی اور سنسکرت کی نادر و نایاب کتابیں موجود ہیں۔ہرن کی کھال پر خلیفہ چہارم حضرت علی کے دست مبارک سے لکھی کتاب کے علاوہ طلائی حروف میں تحریر کردہ قرآن پاک کا نادر نسخہ بھی ہے۔لکھنوٴ کے چار باغ کے مغل باغ کی طرز پر کتب خانے کے باہر بنے باغ کی اپنی تاریخی اہمیت ہے۔
لائبریری کے قیام کے بعد نواب سید محمد سعید خاں بہادر نے اس کے لیے ایک الگ کمرہ مختص کیا۔لکڑی کی الماریاں تیار کی گئیں اور ایک افغانی اسکالر آغا یوسف علی محوی کو لائبریری کی ترتیب و تنظیم کے لیے معمور کیا گیا۔کتابوں کے لیے فارسی میں ایک مہر بنوائی گئی جس پر یہ شعر کندہ تھا:ہست ایں مہر بر کتب خانہ
والیِ رامپور فرزانہ
لائبریری کو نوادرات سے مالامال کرنے کے لیے نواب کلب علی خاں کی کوششیں کم قابل ذکر نہیں ہیں۔انہوں نے نایاب مخطوطے اور اسلامی خطاطی کے نمونوں کے لیے بے پناہ کوششیں کیں۔مختلف ملکوں کا دورہ کیا اورانہی کی وجہ سے لائبریری کو قرآن کریم کا وہ نسخہ ملا جو چمڑے پر لکھا ہوا ہے اور حضرت علی سے منسوب ہے۔
ان کے بعد نواب مشتاق علی خاں بہادر نے لائبریری کی ترقی و توسیع کے لیے بجٹ مختص کیا اور نئی عمارت کی تعمیر کی۔ان کے بعد نواب سر سید محمد حامد علی خاں (1875-1930)نے اپنے عہد میں عالی شان عمارتیں بنوائیں۔انہوں نے ہی خاص باغ میں قلعے کے اندر حامد منزل تعمیر کروائی۔اسی حامد منزل میں 1957ءمیں لائبریری منتقل کر دی گئی۔
ان کے فرزند نواب ڈاکٹر سر سید محمد رضا علی خاں (1906-1966)نے لائبریری کی تنظیم نو کی۔وہ ہندوستانی موسیقی کے دلدادہ تھے اس لیے انہوں نے موسیقی سے متعلق بہت سے نایاب مخطوطے خریدے۔1949ءمیں وفاق ہند میں رامپور ریاست کے الحاق کے بعد یہ لائبریری ٹرسٹ کے حوالے کر دی گئی اور یکم جولائی 1975ءکو پارلیمنٹ کے ایک ایکٹ کے تحت یہ لائبریری مرکزی حکومت کی تحویل میں چلی گئی۔
نواب رضا علی خاں سے موسوم یہ لائبریری اب ایک خود مختار قومی ادارہ ہے جہاں ملک و بیرون ملک کے دانش ور آتے ہیں اور فیض یاب ہوتے ہیں۔نوادرات اور مخطوطات کی وجہ سے عالمی سطح پر اس کی شناخت ہے۔نواب لوہارو کے علمی ذخیرہ کی شمولیت سے اس کی افادیت میں اور اضافہ ہوا۔علامہ شبلی نعمانی جیسے عالم اور مفکر نے جب اس لائبریری کی زیارت کی تو انہوں نے اعتراف کیا:’ہندوستان میں اس سے بہتر کوئی ذخیرہ نہیں۔میں نے شام، ترکی اور یورپ کی لائبریریاں بھی دیکھی ہیں اور میں کہہ سکتا ہوں کہ یہ ان تمام لائبریریوں سے زیادہ عمدہ ذخیرے کی حامل ہے۔‘
علوم و معارف کے اس قدیم خزینے کو دیکھ کر کویت میوزیم کے سابق ڈائرکٹر نے کہا تھاکہ کویت میوزیم سے زیادہ نایاب اور قیمتی مخطوطات یہاں ہیں۔تاریخ، فلسفہ، مذاہب، سائنس، آرٹ، ادب، طب، فلکیات، نجومیات، ریاضیات، طبقات الارض اور فنون لطیفہ سے متعلق مخطوطات یہاں ہیں،جن کی تفصیلات مولانا امتیاز علی خاں عرشی کی چھ جلدوں پر محیط عربی مخطوطات کی فہرست، حافظ احمد علی شوق کی مرتب کردہ فہرست اور حکیم محمد حسین خاں شفا کی مخطوطات رامپور میں دیکھی جا سکتی ہیں۔
اس کے علاوہ راجکمار منوہر اور راجکماری مدھو مالتی کی داستان عشق پر مبنی ملک منجن کی ’مد مالتی‘ اور ملک محمد جائسی کی اودھی زبان میں مشہور عشقیہ داستان ’پدماوت‘ کی مکمل کاپی صرف یہیں محفوظ ہے۔یہ واحد کتب خانہ ہے جہاں اونٹ کے چمڑے پر لکھا ہوا کوفی رسم الخط میں قرآن کریم کا ایک نسخہ محفوظ ہے جو حضرت علی سے منسوب ہے۔ بغداد کے وزیر اعظم ابن مقلہ کا لکھا ہوا قرآن کریم کا ایک نسخہ بھی صرف یہاں ہے اور کہیں نہیں۔مولانا امتیاز علی عرشی کے بقول، جو اس لائبریری کے ناظم تھے
:تاریخی کتابوں کے مطابق ابو علی محمد بن علی بن حسن بن عبداللہ بن مقلہ بیضاوی 272ہجری میں بغداد میں پیدا ہوئے۔ تین عباسی خلفا مقتدر باللہ، قاہر باللہ اور راضی باللہ کے دور میں وزارت کے عہدے پر فائز رہے۔حاسدین کی سازشوں کی وجہ سے انہیں جیل میں ڈال دیا گیا اور وہیں ان کے ہاتھ کاٹ ڈالے گئے۔مگر اس کے باوجود وہ اپنے بازو کے ساتھ قلم باندھ کر خطاطی کرتے تھے۔ثلث، ریحان، محقق، توقیع، نسخ اور رقع انہی کی ایجاد ہے۔ابجد کی نئی ترتیب بھی انہی کی دین ہے۔راضی باللہ کے عہد میں اس نابغہ روزگار کو قتل کر دیا گیا۔انہوں نے ہی کوفی خط کو ایک موڑ دے کر موجودہ نسخ خط بنایا تھا۔
تذکرہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ابن مقلہ نے اپنی زندگی میں قرآن مجید کی صرف دو کاپیاں تیار کی تھیں۔ان میں سے ایک نسخہ رضا لائبری میں موجود ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ صرف یہی ایک نسخہ ہزارہا پونڈ قیمت کا ہے۔اس کے علاوہ قرآن مجید کی سب سے پرانی تفسیر امام سفیان ثوری کی تفسیر ہے جس کا واحد نسخہ یہاں موجود ہے۔اس کی اہمیت کے پیش نظر لائبریری نے حکومت ہند کی مدد سے اسے شائع کر دیا ہے۔اس لائبریری میں شاہنامہ فردوسی، دیوان حافظ، سنسکرت کے پنج تنتر کا عربی ترجمہ اور کلیلہ و دمنہ کے مصور نایاب مخطوطے ہیں۔فارسی نستعلیق میں رامائن کا مصور نسخہ دیکھ کر ہندوستان میں سنگاپور کے سفیر نے کہا تھا کہ انہوں نے رنگین تصویروں والی ایسی قدیم کتاب نہیں دیکھی ہے۔
رضا لائبریری کا ایک امتیاز یہ بھی ہے کہ یہاں مغل، ترک، راجپوت، پہاڑی، اودھی اور فارسی منی ایچرز کے نایاب نمونے موجود ہیں۔خاص طور پر جلال الدین محمد اکبر کے بیٹے نور الدین سلیم جہاں گیر کی وہ پینٹنگ ہے جس میں وہ جھروکے سے باہر دیکھ رہے ہیں۔یہاں مصور مخطوطوں اور فارسی پینٹنگ کے بارے میں 276صفحات پر مشتمل ایک کتاب بھی ہے۔اس لائبریری سے مسیح الملک حکیم محمد اجمل خاں، حافظ احمد علی خاں شوق، علامہ نجم الغنی خاں اور ممتاز محقق مولانا امتیاز علی عرشی جیسی عظیم ہستیاں وابستہ رہی ہیں۔حکومت ہند نے اس عظیم الشان کتب خانے پر یادگاری ٹکٹ جاری کرنے کا فیصلہ کرکے قابلِ مبارکباد کام کیا ہے۔بلا شبہہ اس سے لائبریری کی نہیں بلکہ یادگاری ٹکٹ کی شان میں اضافہ ہوتا ہے۔

Saturday, April 4, 2009

ہندوستان اور ایران کی دانش گاہوں کے مابین علمی معاہدے


Iranian Delegation

مغل دور حکومت میں فارسی زبان کی ہندوستان پر حکمرانی تھی۔نہ صرف یہ کہ تمام سرکاری و غیر سرکاری کام کاج اسی زبان میں ہوتے تھے بلکہ اس زبان کو سرکاری درجہ حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ سرکاری سرپرستی بھی حاصل تھی۔بہ الفاظ دیگر کم و بیش ایک ہزار سال تک ہندوستان میں فارسی زبان نے عملاً حکومت کی ہے لیکن تغیرات زمانہ سے کون بچ پاتا ہے ۔یہ زبان بھی ہندوستان میں حالات کی ستم ظریفی کی شکار ہو گئی ہے اور ایک طرح سے یہاں فارسی زبان پر ٹھہراوٴ آگیا ہے۔اب اس ٹھہراوٴ کو ختم کرنے کی کوشش شروع ہو گئی ہے۔

ایران میں اسلامی انقلاب کی تیسویں سالگرہ کے موقع پر دنیا کے مختلف ممالک میں فارسی شناسی کو عام کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے جس کے تحت ایران سے ایک اعلی سطحی علمی وفد ہندوستان آیا ہوا ہے، جس میں اساتذہ اور علمی شخصیات شامل ہیں۔

اس وفد نے یہاں جامعہ ملیہ اسلامیہ اور اندراگاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی کے ذمے داروں سے ملاقات کی ہے جس کے نتیجے میں دونوں ملکوں کی دانش گاہوں کے مابین علمی معاہدے ہوئے ہیں۔ان معاہدوں کے تحت ہندوستان میں ایران شناسی کے مراکز کھلیں گے اور ایران میں ہند شناسی کے مراکز کھولے جائیں گے۔خیال رہے کہ تین سال قبل تہران یونیورسٹی میں سنسکرت زبان کی تعلیم کا ایک شعبہ کھولا گیا تھا اور یہاں سے استاد بھیجے گئے تھے۔ لیکن پھر یہ سلسلہ رک گیا۔ اب جب کہ ایران میں ہند شناسی کے مراکز کھلیں گے تو سنسکرت زبان کے شعبے کا احیا ہو جائے گا۔ کیوں کہ ہند شناسی میں سنسکرت کے بغیر زیادہ کامیابی نہیں مل سکے گی۔اسی طرح ہندوستان میں فارسی شناسی کے مراکز میں فارسی کی تعلیم دی جائے گی۔
اس اعلیٰ سطحی ایرانی وفد نے اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی (اگنو) کے وائس چانسلر اوم پرکاش اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر پروفیسر مشیر الحسن سے ملاقات کی اور معاہدوں سے متعلق تفصیلات طے کیں۔ وفد میں پیام نور اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر سید محمد حسینی، المصطفی انٹر نیشنل یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر علی رضا عراقی اور متعد علمی شخصیات شامل ہیں۔اس موقع پر سفارت خانہ جمہوریہ اسلامی ایران نئی دہلی میں کلچرل کونسلر ڈاکٹر کریم نجفی نے معاہدے کے تعلق سے کلیدی رول ادا کیا۔اگنو اور جامعہ ملیہ کے عہدے داروں سے ملاقات کے موقع پر وہ بھی موجود تھے۔

ڈاکٹر کریم نجفی نے کہا کہ ان معاہدوں سے ہندوستان میں فارسی زبان کی ترویج و اشاعت اور اس کے فروغ میں بڑی مدد ملے گی جب کہ ایران میں ہندوستانی زبانوں کو فروغ حاصل ہوگا۔اس کے علاوہ دونوں ملکوں کے مابین علمی اور ثقافتی تبادلوں سے باہمی رشتے اور مضبوط اور مستحکم ہوں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ فارسی ہندوستان میں کوئی نئی زبان نہیں ہے بلکہ اس نہ یہاں تقریباً سات سو سال تک حکومت کی ہے۔جبکہ پیام نور اور المصطفی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلروں نے بھی ہند ایران تعلقات پر زور دیا اور کہا کہ یہ معاہدے دونوں ملکوں کے مابین علمی رشتوں کے لیے اہم کڑی ثابت ہوں گے۔

ادھر پروفیسر مشیر الحسن نے دونوں ملکوں میں ایک دوسرے ملک کی زبانوں کے فروغ کے لیے مراکز قائم کرنے پر زور دیا اور کہا کہ اس سے باہمی ثقافتی تعلقات اور مستحکم ہوں گے اور دنیا میں ایران کو ایک خصوصی مقام حاصل ہو گا۔جب کہ ڈاکٹر علی رضا عراقی نے کہا کہ یہ معاہدے ہمارے علمی روابط کو مستحکم بنانے میں مہمیز کا کام کریں گے۔جامعہ کے عہدے داروں سے ملاقات میں یہ بھی طے پایا کہ جامعہٴ ملیہ اسلامیہ میں رمضان کے بعد ہفتہ فرہنگ ایران منایا جائے گا۔

اگنو اور پیام نور یونیورسٹیوں میں علمی تبادلے کے لیے کورس اور لٹریچر کی تیاری کا کام پروفیسر اختر مہدی کے سپرد ہے۔ اختر مہدی جے این یو میں شعبہ فارسی سینئر استاد رہ چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کورس کی تیاری کا کام تقریباً مکمل ہے اور جلد ہی عملی سلسلہ شروع ہو جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت ملک میں اگنو کے کم از کم پانچ سو مراکز ہیں اور انہیں امید ہے کہ اگنو فارسی زبان کے فروغ میں بھی اپنی دیرینہ روایت پر قائم رہے گی۔ان معاہدوں سے ہندوستان میں فارسی زبان کے فروغ میں تیزی آئے گی اور یہ معاہدے دونوں ملکوں کے تعلقات کے ضمن میں سنگ میل ثابت ہوں گے۔
اور ویسے بھی سنسکرت اور قدیم فارسی زبانیں ایک دوسرے کی بہنیں ہیں۔ یہ بات سب سے پہلے نابغہٴ روزگار ماہرِ لسانیات خانِ آرزو نے 1745ء کے لگ بھگ کہی تھی۔ یہ الگ بات کہ جب 1786ء میں سر ولیم جونز نے کلکتے میں ایک تقریر میں یہ کہا کہ سنسکرت اور فارسی زبانیں ایک ہی زبان سے نکلی ہیں تو اس مغربی لسانی دنیا میں تہلکہ مچ گیا اور یہ تقریر آج بھی تقابلی لسانیات کی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔

ادھر اگنو کے وائس چانسلر پروفیسر اوم پرکاش مشرا نے ایران کی دونوں یونیورسٹیوں کے وائس چانسلروں کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ آج متعدد ممالک کے مابین متعدد قسم کے معاہدے ہو رہے ہیں مگر ہمارے یہ معاہدے علمی معاہدے ہیں اور اس سے دونوں ملکوں کی علم دوستی کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔

اس موقع پر جے این یو میں شعبہ فارسی کے سابق استاد پروفیسر عبد الودود اظہر نے ارود وی او اے سے بات چیت میں بتایا کہ معاہدے کے تحت فاصلاتی نظام کے ذریعے ایک دوسرے ملک کی زبانوں اور کورسوں کی تعلیم دی جائے گی۔انہوں نے بتایا کہ ہندوستان میں پیام نور یونیورسٹی کے مراکز کھولے جائیں گے اور ایران میں اگنو کے مراکز کھلیں گے، جن میں امتحانات بھی ہوں گے اور طلبہ کو دوسری علمی سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔انہوں نے بتایا کہ چند اچھے طلبہ کو ایران بھی بلایا جائے گا تاکہ وہ وہاں جاکر فارسی میں علمی کام کر سکیں۔جب کہ ایران کے طلبہ کو ایران ہی میں اگنو کے مراکز میں اگنو کے کورسز میں داخلہ دیا جائے گا۔

پروفیسر اظہر نے مزید بتایا کہ ڈاکٹر نجفی پیام نور یونیورسٹی کے قم مرکز کے ڈائرکٹر رہ چکے ہیں لہذا اس سلسلے میں ان کی دلچسپی زیادہ ہے۔وہ ایران کلچر ہاوس میں بھی فارسی سے متعلق کلاسز شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اس کے علاوہ دہلی، ممبئی اور حیدر آباد سمیت کئی شہروں میں بھی مراکز قائم کیےجائیں گے۔خیال رہے کہ اس سے پہلے بھی ایران کلچر ہاوس میں فارسی کی کلاسز چلائی جاتی تھیں۔

فارسی زبان کے ماہر اور سینئر اردو صحافی رحمت اللہ فاروقی نے بتایا کہ ہندوستان میں اگرچہ فارسی اب کافی محدود ہو گئی ہے لیکن اب بھی متعدد سرکاری شعبے ایسے ہیں جہاں فارسی کے بغیر کام نہیں چلتا۔ مثال کے طور پر عدلیہ، آثارِ قدیمہ، مالیات اور پولیس محکموں میں اب بھی فارسی کی متعدد اصطلاحیں استعمال کی جاتی ہیں۔ محکمہٴ آثار قدیمہ میں تو فارسی کے بغیر ایک قدم بھی نہیں چلا جا سکتا۔عہد وسطی کی تاریخ تک پہنچنے کے لیے فارسی زبان کے راستے سے ہی جایا جا سکے گا۔

رحمت اللہ فاروقی نے مزید بتایا کہ اس وقت ہندوستان میں کم از کم ساٹھ یونیورسٹیوں میں فارسی کے شعبے قائم ہیں اور ان معاہدوں سے اس زبان کے فروغ میں کافی تیزی آجائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ناگپور میں کتبہ شناسی کا ایک انسٹی ٹیوٹ بھی ہے جہاں عربی اور فارسی کے کتبوں کو پڑھا جاتا اور چھاپا جاتا ہے۔خدا بخش لائبریری پٹنہ میں بھی فارسی کے لاتعداد مخطوطے ہیں جن سے علم دوست حضرات فائدہ اٹھاتے ہیں۔