Showing posts with label Languages. Show all posts
Showing posts with label Languages. Show all posts

Thursday, May 26, 2011

اردو کے نوحہ گر ہی اردو کے دشمن ہیں

اردو زبان کی صورت حال بہت خراب ہے ، اردو رفتہ رفتہ مٹتی اور ختم ہوتی جا رہی ہے اور اس کے لیے حکومت ہی ذمہ دار ہے۔ یہ اور ایسی باتیں سنتے سنتے کان پک سے گئے ہیں۔ کسی بھی اردو پروگرام میں جایئے اردو کی مرثیہ خوانی سے سابقہ پڑ جاتا ہے۔ کوئی اس کے لیے حکومتوں کی پالیسیوں کو ذمہ دار قرار دیتا ہے تو کوئی اردو کو مٹانے میں اردو دشمنوں کی سازشوں کا سرا تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ کوئی اردو ہندی تنازعہ پر روشنی ڈال کر اردو کی مظلومیت کا رونا روتا ہے تو کوئی اس پر زور دیتا ہے کہ جب تک اردو کو روزی روٹی سے نہیں جوڑا جائے گا وہ ترقی نہیں کر سکتی۔ لیکن ان تمام شکایتوں اور نالوں اور فریادوں کے درمیان کوئی بھی شخص جرات مندی کے ساتھ یہ نہیں کہتا کہ ہم خود اردو زبان کے قاتل ہیں اور ہم نے ہی اس کی تکفین وتدفین کا فریضہ انجام دیا ہے۔ دبے لفظوں میں کوئی اعتراف ہو جائے تو وہ الگ بات ہے لیکن ہم اردو والو ں میں اس کی اخلاقی جرات نہیں ہے کہ ہم علی الاعلان یہ کہہ سکیں کہ ہاں ہم اس صورت حال کے ذمہ دار ہیں اور ہمیں ہی اسے تبدیل کرنا ہوگا۔
ابھی گذشتہ دنوں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کی آرٹس فیکلٹی میں اسی مسئلے پر ایک سیمنار میں شرکت کا موقع ملا۔ اس کا اہتمام علیگڑھ کی ایک فعال تنظیم ملت بیداری مہم کمیٹی ، جریدہ علیگڑھ موومنٹ اور قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نے کیا تھا۔ موضوع تھا ’’سیکولر آزاد ہندوستان میں اردو زبان کا رول‘‘۔ اس موضوع پر مختلف مقالات پیش کیے گئے۔لیکن مرثیہ خوانی اور نوحہ گری بھی ہوئی۔ ملت بیداری مہم کمیٹی کے جنرل سکریٹری اور علیگڑھ موومنٹ کے مدیر جناب جسیم محمد نے اردو زبان کی موجودہ صورت حال پر بھرپور روشنی ڈالی۔ مہمان اعزازی کی حیثیت سے معروف ماہر تعلیم اور کالم نگار فیروز بخت احمد نے ختم ہوتے ادب اطفال پر بھرپور مقالہ پیش کرکے اردو ادیبوں اور شاعروں کی توجہ اس جانب مبذول کرائی۔ راقم الحروف نے الیکٹرانک میڈیا میں اردو زبان کے بڑھتے استعمال اور اردو کی اہمیت پر ایک تفصیلی مقالہ پیش کیا۔ اس کے علاوہ کم از کم دو درجن مققالہ نگاروں نے اس دوروزہ کانفرنس میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
آزاد سیکولر ہندوستان میں اردو زبان کا کیا رول ہونا چاہئے اس پر تو غور کرنے کی ضرورت ہے ہی، اس سے زیادہ اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ آزاد سیکولر ہندوستان میں اردو کو کیا مقام حاصل ہے اور کیا اس کو اس کاجائز حق مل گیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومتوں کی پالیسیاں اردو زبان کے زوال کی بہت بڑی ذمہ دار ہیں۔ حکومتیں نہیں چاہتیں کہ اردو کو اس کا جائز حق ملے، اس کے ساتھ ہو رہی ناانصافی کو دور کیا جائے اور اس زبان کے فروغ کے لیے بہتر انداز میں کوششیں کی جائیں۔ حالانکہ حکومت نے متعدد ادارے قائم کر رکھے ہیں جن کا کام اردو زبان کے فروغ میں بڑھ چڑھ کر رول ادا کرنا ہے۔ جن کا کام اردو زبان کی تعلیم کو عام کرنا ، اردو زبان وادب کو فروغ دینااور اردو کو مختلف انداز میں پروان چڑھانا ہے۔ کچھ ادارے سنجیدگی کے ساتھ کچھ کر بھی رہے ہیں جن میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کا رول قابل ذکر ہے۔ لیکن بیشتر ادارے سیاست کا اکھاڑہ بنے ہوئے ہیں۔ ان اداروں کی کرسیوں پر براجمان شخصیات اپنے فرائض سے کوتاہی کی مرتکب ہو رہی ہیں۔ اگر ہم ایماندارانہ جائزہ لیں تو پائیں گے کہ حکومت تو بہرحال کچھ نہ کچھ کر رہی ہے ۔ لیکن سوال وہی پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہم کیا کر رہے ہیں۔ ہم جو اردو کے ختم ہونے کا رونا روتے رہتے ہیں اردو کو زندہ کرنے کے لیے کیا کچھ قربانیاں دے رہے ہیں۔ کیا صرف یہی ہمارا کام ہے کہ ہم مطالبات کریں، حکومتوں سے شکایات کریں اور ان کی پالیسیوں کی مذمت کریں۔ کیا یہ ہمارا فرض نہیں ہے کہ ہم خود اردو کو پروان چڑھانے کے لیے دامے، درمے ، قدمے، سخنے حصہ لیں۔
جن لوگوں پر اردو کے فروغ کی زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے وہی اس کو مٹانے کے جرم کے مرتکب بھی ہو رہے ہیں۔ پہلے اتر پردیش، بہار اور دہلی اردو کے گہوارہ ہوا کرتے تھے لیکن آج انہی گہواروں سے اردو کا جنازہ بڑی دھوم دھام سے نکالا جا رہا ہے۔ اتر پردیش کی حالت تو بہت خراب ہے۔ وہاں کی نوجوان نسل اردو کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اردو پڑھ کر کیا ہوگا اس سے روزی روٹی اور نوکری نہیں ملے گی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنی زبان کو جسے ہم تہذیب و ثقافت کا گہوارہ کہتے ہیں اور جس میں ہمارا کل مذہبی سرمایہ موجود ہے ، محض اس لیے ترک کر دیں کہ اس کے پڑھنے سے ملازمت نہیں ملے گی۔ کیا یہ ہماری ذمہ داری نہیں کہ ہم اس زبان کو اپنے سینے سے لگائے رہیں خواہ نوکری ملے یا نہ ملے۔ اگر ہمارے والدین بڑھاپے میں ہمیں کوئی فائدہ نہ پہنچا سکیں تو کیا ہم انہیں گھروں سے نکال کر سڑکوں پر مارے مارے پھرنے کے لیے چھوڑ دیں یا انہیں اولڈ ایج ہوم کے حوالے کر دیں۔ کیا ہماری ذمہ داری نہیں کہ ہم ان کا سہارا بنیں۔ یہی حالت اردو زبان کی ہے۔ ان علاقوں میں جہاں اردو کے مراکز ہوا کرتے تھے، نوجوان نسل کی تعلیم کے لیے کیا ہم کوئی بند بست کرتے ہیں۔ ہم اپنے بچوں کو کیا اردو پڑھنے کے لیے مجبور کرتے ہیں۔ عام آدمی کو تو چھوڑئے خود وہ حضرات جو اردو کی روزی روٹی کھاتے ہیں یعنی جو یونیورسٹیوں اور کالجوں میں اردو کے استاد ہیں ان میں سے بیشتر اپنے بچوں کو اردو کی تعلیم نہیں دلواتے۔ وہ بھی کہتے ہیں کہ اردو پڑھ کر کیا ہوگا۔ اس لیے وہ انہیں اعلی سطح کے انگریزی اسکولوں میں داخل کرتے ہیں ۔ جبکہ ان کی اپنی زندگی اور ترقی کی عمارت اردو کی بنیاد پر ہی قائم ہے۔ مذکورہ سیمنار میں بھی اس بات کا حوالہ دیا گیا اور اردو کے ایک بزرگ ادیب پروفیسر وہاب اشرفی نے اردو کے ایک پروفیسر اور ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر ابو الکلام قاسمی کی موجودگی میں یہ شکوہ کیا کہ اردو کے اساتذہ اپنے بچوں کو اردو نہیں پڑھاتے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے ،بلکہ نہایت شرمناک بات ہے۔ وہ حضرات جو اردو کانفرنسوں میں شرکت کے لیے دنیا کے متعدد ممالک کے دورے کرتے ہیں ، وہ اردو کے تئیں کتنے مخلص اور سنجیدہ ہیں اس پر انہیں غور کرنے کی ضرورت ہے۔
جو لوگ یہ عذر لنگ پیش کرتے ہیں کہ اردو پڑھ کر کیا ہوگا اس سے ملازمت نہیں ملتی، راقم الحروف ان سے اتفاق نہیں کرتا۔ اب تو صورت حال یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ اردو میڈیم سے آپ آئی اے ایس کا باوقار امتحان دے سکتے ہیں اور اس میں کامیابی بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ تازہ ترین مثال کشمیر کے شاہ فیصل کی ہے جنھوں نے اردو سے امتحان دیا اور آج وہ آئی اے ایس بن کر اردو والوں کے لیے ایک روشن مثال بن چکے ہیں۔ اس سے پہلے ایک قاسمی مولانا نے آئی اے ایس کا امتحان اردو زبان میں دیا اور کامیا بی حاصل کی۔ اس سے بھی پہلے مسلم یونیورسٹی کے ایک طالب علم ایس ایم اشرف نے اردو زبان میں امتحان دے کر آئی اے ایس میں کامیابی حاصل کی تھی۔ اردو میں کیا نہیں ہے۔ اور پھر اگر اردو سے ملازمت نہ ملے تو کیا ہم اردو کو خیر باد کہہ دیں گے۔ پروفیسر ابو الکلام قاسمی کی اس بات کی راقم الحروف تائید کرے گا کہ اس دلیل میں کوئی دم نہیں ہے۔ ہمیں اردو کے لیے قربانی دینے کا جذبہ اپنے اندر پیدا کرنا ہوگا۔ یہ مثال عام طور پر دی جاتی ہے کہ عبرانی زبان صدیوں تک گوشہ گمنامی میں رہی او رزمانے کے ستم جھیلتی رہی۔ لیکن جب یہودیوں کو موقع ملا او رانہوں نے اسرائیل کا قیام کر لیا تو آج وہی زبان دنیا کے نقشے پر باوقار انداز میں اپنی حاضری درج کرا رہی ہے۔
اس سلسلے میں شمالی او رجنوبی ہند کے مسلمانوں اور اردو داں طبقے کے رویے میں فرق کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ شمالی ہند کے اردو داں حضرات صرف شکوہ بیجا ہی میں مصروف رہتے ہیں جبکہ جنوبی ہند کے اردو داں طبقے اپنے کام میں یقین رکھتے ہیں۔ آج مہاراشٹرا میں جانے کتنے اردو میڈیم اسکول ہیں او روہاں کے طلبہ سو فیصد نمبر حاصل کرتے ہیں۔ وہ اردو کے سہارے روزگار بھی حاصل کر رہے ہیں اور اپنی اور اپنے اہل خانہ کی زندگیاں بھی بنا رہے ہیں۔ اردو کے ساتھ ہونے والی نا انصافی کا رونا رونے کی بجائے انھوں نے اردو کے لیے قربانی دینے کا جذبہ اپنے اندر پیدا کیا اور آج اس کے ثمرات سے وہ فیض یاب بھی ہو رہے ہیں۔ کیا شمالی ہند کے مسلمان او راردو سے پیا ر کرنے والے لوگ اس مثال کو اپنے سامنے رکھ کر اپنا لائحہ عمل تیار نہیں کر سکتے۔ در اصل شمالی ہند کے مسلما ن صرف جذباتی اقدامات ہی میں یقین رکھتے ہیں وہ ٹھوس اور بنیادی کام کرنا نہیں جانتے۔ وہ تن آسانی کے شکار ہیں اور اپنی ذمہ داری سے غفلت شعاری کے ساتھ ساتھ وہ دوسروں کو مورد الزام ٹھہرانے میں یقین رکھتے ہیں۔
در اصل اردو کے دشمن حکومت اور اردو مخالف عناصر ہوں یا نہ ہوں ہم اردو والے ضرور ہیں۔ وہ لوگ جو اردو کی مرثیہ خوانی کرتے ہیں ، جو اردو کا نوحہ پڑھتے رہتے ہیں اور جو لوگ مذمتی اور مطالباتی رویے میں یقین رکھتے ہیں وہ کسی بھی قسم کا تعمیری اور ٹھوس کام کر ہی نہیں سکتے۔ ایسے کام کرنے کے لیے اپنا خون جگر جلانا پڑتا ہے، اپنے آپ کو مٹا دینا پڑتا ہے اور قربانیوں کی مصیبت بھری راہوں سے گزر کر دوسروں کے لیے نشان راہ قائم کرنا پڑتا ہے۔ کیا وہ لوگ جو محض مرثیہ خوانی میں یقین رکھتے ہیں، اپنے رویے میں تبدیلی لائیں گے اور ایثار وقربانی کا جذبہ اپنے اندر پیدا کریں گے۔ کیونکہ کوئی بھی نغمہ خون جگر کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ بالکل اسی طرح جس طرح کہ خون جگر کے بغیر عشق کوئی رنگ نہیں لاتا۔

Saturday, January 16, 2010

رسائل و جرائد کی اشاریہ سازی: تاریخی روایت اور اہمیت

اس وقت برصغیر ہند و پاک سے لاتعداد رسائل و جرائد شائع ہو رہے ہیں۔ یہ جرائد ادبی، نیم ادبی، سیاسی، مذہبی، سماجی ا ور دیگر موضوعات پر مشتمل ہیں۔ رسائل و جرائد کی اشاعت کی ایک طویل تاریخ ہے اور موضوعات کے اعتبار سے ان کی بڑی اہمیت ہے۔ یہ اہمیت وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتی جاتی ہے کیونکہ آگے چل کر یہی رسائل و جرائد تاریخ نویسی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ بعض رسائل و جرائد کی اہمیت تو کتابوں سے بھی زیادہ ہوتی ہے اور ان کا انتظار قارئین کو بے چین کیے رکھتا ہے۔

کتابوں میں کسی ایک موضوع پر ایک ہی قلم کار کے مضامین ہوتے ہیں اور بیشتر میں یکسانیت ہوتی ہے۔ لیکن رسائل و جرائد میں مختلف عنوانات پر مختلف ادیبوں کے خیالات پڑھنے کو ملتے ہیں۔اسی طرح رسائل و جرائد کے خصوصی شماروں کی بھی زبردست اہمیت ہے۔ جن میں متعدد ماہرین کے مضامین ہوتے ہیں جو بڑے متنوع اور جدا جدا اندازِ نگارش کے ساتھ انتہائی معلومات افزا ہوتے ہیں۔

چونکہ رسائل و جرائد تاریخ نویسی اور تحقیق نگاری میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اسی لیے ان کی اشاریہ سازی (Indexing) کا فن بھی وجود میں آیا اور اہم ادبی و معلوماتی رسائل کی اشاریہ سازی کا کام شروع ہوا۔ اشاریہ سازی کی بڑی افادیت ہے۔ اس کا اندازہ وہی لوگ لگا سکتے ہیں جو کسی ایک موضوع پر کام کر رہے ہوں اور ان کو مختلف رسائل و جرائد کو کھنگالنے کی ضرورت پیش آ گئی ہو۔

ماہانہ رسائل کے خصوصی شمارے کے مرتب ضیااللہ کھوکھر کے مطابق اردو رسائل کی باضابطہ اور کتابی صورت میں اشاریہ سازی کی اہمیت و افادیت کا ادراک سب سے پہلے اورینٹل کالج میگزین کے فاضل مدیر مولوی محمد شفیع مرحوم کو ہوا، ان ہی کی تحریک پر اس کے 1925ء سے1941ء تک کے تمام شماروں کا اشاریہ محمد ابراہیم اور ڈاکٹر سید محمد عبداللہ نے مرتب کیا جو مئی1942ء کے شمارے میں شائع ہوا “۔ بعد میں’ مخزن ‘لاہور کے ایڈیٹر شیخ عبدالقادر نے بھی اس کا احساس کیا اور پھر انھوں نے مخزن کی اشاریہ سازی شروع کر دی۔ مخزن کی جلد چھ شماروں پر مشتمل ہوا کرتی تھی اور جلد کے اختتام پر اس کے شماروں کی مکمل فہرست مضامین کے اعتبار سے دے دی جاتی تھی۔

بہر حال رفتہ رفتہ یہ سلسلہ آگے بڑھتا گیا اور آج اہم رسائل کی اشاریہ سازی کا عمل باقاعدگی سے جاری ہے۔ ہندوستان میں بھی یہ کام ہو رہا ہے اور پاکستان میں بھی۔

ضیاءاللہ کھوکھر گوجرانوالہ لاہور کے ایک معروف تاجر ہیں۔ لیکن ان کو تاجر کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک علمی شخصیت کی حیثیت سے شہرت حاصل ہے۔انھوں نے اپنے والد کے نام پر عبدالمجید کھوکھر یادگار لائبریری قائم کی ہے۔ جس میں لاکھوں کتابوں کا ذخیرہ موجود ہے۔ انہیں کتابیں جمع کرنے کا شوق دیوانگی اور جنون کی حد تک ہے اور یہی دیوانگی ان سے بہت بڑے بڑے کام کروا لیتی ہے۔ان کی لائبریری میں پندرہ سو سفرنامے ہیں جو مشاہیر کے قلم کی پیداوار ہیں۔

انھوں نے حال ہی میں ایک کتاب ’ماہانہ رسائل کے خصوصی شمارے‘ مرتب کی ہے جس میں 1902ء سے لے کر2005ء تک کے رسائل و جرائد کی اشاریہ سازی کی گئی ہے۔ضیاءاللہ کھوکھر ایک ایسے تاجر پیشہ ادیب و صحافی ہیں جو بڑے بڑے ادیبوں اور صحافیوں پر بھاری ہیں۔

اس سے قبل انھوں نے ”’فہارس الاسفار‘ کے نام سے 1300 سفرناموں کی اشاریہ سازی اور بچوں کی صحافت کے سو سال“کے نام سے سو سالہ ادب اطفال کی اشاریہ سازی کی تھی۔ ان دونوں تصنیفات کو حلقہٴ علم و ادب میں زبردست پذیرائی حاصل ہوئی اور اب اسی نوعیت کی یہ تیسری تصنیف اردو دان حلقے میں موضوع گفتگو بنی ہوئی ہے۔

زیر نظر کتاب کے آغاز میں انھوں نے کتاب کا تعارف لکھا ہے جو تعارف کی بجائے ایک بہت ہی وقیع اور مفصل مضمون بن گیا ہے جو رسائل و جرائد کی تاریخ اور اشاریہ سازی کے فن و روایت سے تفصیل کے ساتھ بحث کرتا ہے۔

ضیاءاللہ کھوکھر کہتے ہیں کہ اورینٹل کالج میگزین کے 1925سے1967کے شماروں کا اشاریہ 1970میں اورینٹل کالج میگزین کے سائز اور انداز پر منظر عام پر آیا، اسے اردو رسائل کا ایسا اولین اشاریہ کہنا چاہیے جو کتابی صورت میں شائع ہوا۔ اس کے بعد 1985میں معروف کتابی وضع قطع اور سائز اپنا کر سامنے آنے والا اشاریہ ماہنامہ ترجمان القرآن“ حیدرآباد دکن، پٹھان کوٹ لاہور کا تھا۔ یہ اشاریہ 1932ء سے1976ء کے شماروں کو محیط ہے۔

ان کے بقول 1970ء سے تاحال اشاریوں کی کس قدر تعداد کتابی صورت میں شائع ہوئی ہے، اس کے متعلق حتمی طور پر کچھ کہنا ممکن نہیں ہے۔تاہم ان کی لائبریری میں موجود اشاریوں کے حوالے اور تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ 2000ء سے 2006ء کا دور کتابی صورت میں شائع شدہ اشاریوں کی تعداد کے لحاظ سے سرفہرست ہے۔

ماہانہ رسائل کی بہ نسبت ہفت روزہ رسائل کی اشاریہ سازی زیادہ دقت طلب کام ہے۔مولانا ابوالکلام آزاد کے اخبار الہلال نے جلد کے آخر میں اشاریہ مرتب اور شائع کرنے کی روایت قائم کی تھی۔اس کے بعد ہفت روزہ ”الحدیث“ امرتسر ہی ایسا ہفت روزہ ہے جس کی کسی جلد کا اشاریہ ضیاءاللہ کھوکھر کی لائبریری میں موجود ہے۔

اس وقت برصغیر ہند و پاک سے اگرچہ متعدد رسائل و جرائد شائع ہو رہے ہیں اور ان کو باکمال مدیروں کی خدمات حاصل ہیں۔ لیکن پہلے کے مدیروں میں غضب کی جدت طرازی اور کام کرنے کی لگن اور دھن ہوا کرتی تھی۔ انھوں نے اپنی ذہانت، بصیرت اور ندرت فکر سے رسائل و جرائد کی صحافت کو بلند مقام عطا کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آج کے تحقیق کاروں اور محققوں کو بھی قدیم رسائل و جرائد سے استفادے کی ضرورت پیش آتی ہے۔

در اصل قدیم مدیروں نے اس فن کو ایک نیا اسلوب دیا تھا اور ان کے خیال انگیز افکار کے بطن سے انتہائی تاریخی رسائل نے جنم لیا تھا۔ ان جریدوں کے مدیر تعلیم یافتہ اور جدید ادبی تصورات و رجحانات سے بھی آگاہ تھے۔ بقول ضیااللہ کھوکھر انہیں ادب برائے زندگی کا نظریہ مرغوب نہیں تھا وہ ادب برائے ادب یا جدیدیت کے قائل تھے۔ انھوں نے ادبی اقدار سے بغاوت کر کے جدت پسندی کا راستہ اختیار کیا۔

ان مدیروں میں مخزن کے ایڈیٹر شیخ عبدالقادر، دلگداز کے ایڈیٹر مولانا عبدالحلیم شرر، زمانہ کے ایڈیٹر منشی دیا نرائن نگم، ماہنامہ زبان کے مائل دہلوی، ماہنامہ تمدن کے مولانا راشد الخیری، ماہنامہ اردو کے فتح محمد خاں، ماہنامہ نگار کے علامہ نیاز فتح پوری، ماہنامہ ادبی دنیا کے مولانا تاجور نجیب آبادی، ماہنامہ ساقی کے شاہد احمد دہلوی ، ماہنامہ آج کل کے جوش ملیح آبادی، جگن ناتھ آزاد اور عرش ملسیانی اور ماہنامہ شاعر کے سیماب اکبر آبادی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

ضیاءاللہ کھوکھر کہتے ہیں کہ مخزن لاہور 1901ء سے لے کر ”سب رس حیدرآباد دکن جنوری 1938ء تک کا دورانیہ ایسا روشن اور تاب ناک ہے کہ اسے اردو صحافت کا دور زریں کہا جا سکتا ہے “۔

انھوں نے اردو صحافت کے ارتقائی منازل کا بھی جائزہ لیا ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ مدیروں کے ادبی ذوق اور رسالوں کے مابین جاری چشمک اور ا دبی آویزشوں پر بھی خامہ فرسائی کی ہے۔در اصل یہ پورا مضمون ایک صدی کی اردو صحافت بالخصوص ادبی صحافت کا بھرپور جائزہ پیش کرتا ہے اور ایسے گوشوں کو اجاگر کرتا ہے جن سے عام طور پر اہل اردو بے خبر ہیں۔

اس کتاب کے مطالعہ سے اندازہ ہوا کہ رسائل و جرائد کے سب سے زیادہ خصوصی شمارے جو شائع ہوئے ہیں وہ ہیں اقبال نمبر، افسانہ نمبر، سیرت النبی یا رسول نمبر،غالب نمبر اور قرآن مجید نمبر ۔ ان میں سب سے زیادہ سیرت نمبر شائع ہوئے ہیں۔

ان کے علاوہ شاعری نمبر، غزل نمبر، فیض نمبر، حج نمبر، رمضان المبارک نمبر، جگر نمبر، جوبلی نمبر، گولڈن جوبلی نمبر، سید ابو الاعلٰی مودودی نمبر، کہانی نمبر، کشمیر نمبر، ناول اور ناولٹ نمبر وغیرہ وغیرہ شائع ہوئے ہیں ۔ زیر نظر کتاب اشاریہ سازی کے ساتھ ساتھ سو سال کے ادبی سفر کا بھرپور جائزہ پیش کرتی ہے اور یہ ریسرچ اسکالروں اور تحقیق نگاروں کے لیے انتہائی مفید ہے۔

Tuesday, December 29, 2009

مرزا غالب کے 212 ویں یوم پیدائش پردہلی میں متعدد تقریبات کا انعقاد

نابغہ روزگار شاعر مرزا غالب کے یوم پیدائش پر دار الحکومت دہلی میں دو روزہ تقریبات منائی گئیں۔ اس موقع پر چاندنی چوک سے غالب کی حویلی تک کینڈل مارچ نکالا گیا۔ کتھک رقاصہ اوما شرما نے غالب کی غزلوں پر رقص پیش کیا۔ قلمکار اور دانشور پون ورما نے غالب پر مضمون پیش کیا اور ڈرامہ نگار انیس اعظمی نے غالب کے انداز میں خطوط غالب کی قرآت کی۔
26اور27 دسمبر کو دوروزہ یوم غالب تقریبات کے دوران چاندنی چو ک کے ٹاون ہال سے گلی قاسم جان میں واقع غالب کی حویلی تک کینڈل مارچ میں معروف شاعر اور فلمی نغمہ نگار گلزار، ڈائرکٹر وشال بھاردواج، ان کی اہلیہ اور گلوکارہ ریکھا بھاردواج، رقاصہ اوما شرما، قلمکار پون ورما اور بڑی تعداد میں دہلی کی ادب نواز اور غالب پسند شخصیات موجود تھیں۔

اس موقع پر گلزار نے کہا کہ غالب کو یاد کرنے کا بہترین طریقہ ہے کہ ہم شمع روشن کرکے غالب کی حویلی تک جاتے ہیں اور ہماری خواہش ہے کہ یہ روایت ہمیشہ زندہ رہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ بہت سے لوگ مجھ سے کہتے ہیں کہ میں نے مرزاغالب سیرئیل بناکر اسکرین پر غالب کی زندگی بنا دی لیکن میں کہتا ہوں کہ غالب نے میری زندگی بنا دی۔

انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ غالب کی حویلی کو ایک میوزیم میں تبدیل کیا جائے۔

پون ورما نے کہا کہ جس تہذیب و ثقافت سے غالب کا رشتہ تھا وہ ہماری شاندار روایت کا حصہ ہے اور غالب صرف شاعر ہی نہیں بلکہ ایک تہذیب اور طرز زندگی کی علامت ہیں۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ جس قوم نے اپنے ادیبوں اور فنکاروں کی قدر نہیں کی اسے کبھی ترقی نہیں ملی۔

وشال بھاردواج نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کینڈل مارچ کے توسط سے ہم نے غالب کے سفر کی دریافت نو کی ہے۔

چاندنی چوک سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے سابق رکن پارلیمنٹ وجے گوئل نے غالب کی حویلی کی خستہ حالی پر رنج و غم کا اظہار کیا اور اس کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔

مارچ کے شرکا نے غالب کی حویلی کے غلط استعمال کے خلاف احتجاج کیا اور اس کے تحفظ پر زور دیا۔

واضح رہے کہ چند روز قبل غالب کی حویلی میں ایک شادی کی تقریب منعقد ہوئی تھی جس کے سبب حویلی میںچاروں طرف گندگی پھیل گئی تھی۔ اس پر غالب نواز لوگوں کی طرف سے شدید احتجاج کیا گیا تھا۔

اس مارچ میں ایڈووکیٹ عبد الرحمن نے غالب کا لباس اور ان کے جیسی ٹوپی پہن کر شرکت کی اور اعلان کیا کہ وہ غالب پر ایک فلم بنائیں گے جس کو اگلے سال یوم غالب پر لندن میں ریلیز کیا جائے گا۔

ادھر دوسرے روز کی تقریبات کے دوران کتھک رقاصہ اوما شرما نے انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں غالب کی چنندہ غزلوں پر رقص پیش کرکے ناظرین کو محظوظ کر دیا۔

یہ پروگرام غالب میمورئیل موومنٹ کے زیر اہتمام انڈین کونسل فار کلچرل ریلیشنز، دہلی حکومت، ساہتیہ کلا پریشد، ایس جی فاونڈیشن اور بھارتیہ سرن سنگیت کے اشتراک سے منعقدہوا۔

اوما شرما نے ’شمع جلتی ہے تو اس میں سے دھواں اٹھتا ہے، ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے، تیرے دل میں گر نہ تھا آشوب غم کا حوصلہ‘ وغیرہ غزلوں کی رقص کے ذریعے تشریح کرکے تفہیم غالب کے نئے گوشے وا کیے۔

اوما شرما کے شاگردوں نے غالب کی نظم ”چراغ دیر“ (بنارس کو خدا محفوظ رکھے چشم بد بیں سے) کی خوبصورت پیشکش کے ذریعے غالب کی مذہبی رواداری کو اجاگر کیا۔

اس پروگرام میں پون ورما نے اپنی تصنیف ’غالب، شخصیت اور فن‘ کے بعض اقتباسات پیش کیے ۔

دوسرے روز کی آخری تقریب غالب اکیڈمی میں منعقد ہوئی جس میں معروف ڈرامہ نگار انیس اعظمی نے خطوط غالب کو ڈرامائی انداز میں پڑھ کرلوگوں کے دل جیت لیے۔

انھوں نے 1852سے1868تک کے خطوط غالب کو اس انداز میں پیش کیا کہ اس دور کا پورا منظرنامہ آنکھوں کے سامنے آگیا۔

انیس اعظمی نے منشی ہرگوپال تفتہ، تفضل حسین خاں، پیارے لال آشوب، گوبند سہائے، نواب امین الدین احمد خاں، میر مہدی مجروح، عزیز الدین ، خواجہ غلام غوث خاں اور رامپور کے نواب میر حبیب نواب کو لکھے خطوط کی اس انداز میں قرات کی کہ ایسا لگ رہا تھا جیسے غالب خود آکر اپنے خطوط پڑھ رہے ہیں۔

ان خطوط سے اس دور کی تاریخ پر بھی اجمالاً روشنی پڑتی ہے۔

خیال رہے کہ انیس اعظمی ملک کے مختلف شہروں میں سو سے زائد مرتبہ خطوط غالب کی بہ زبان غالب قرات کرکے تفہیم غالب کو ایک نئی جہت دے چکے ہیں۔

اس موقع پر غالب اکیڈمی کے صدر خواجہ حسن ثانی نظامی نے کہا کہ غالب نے حضرت علی کی شان میں جو قصائد لکھے ہیں وہ بے مثال ہیں اور اگر غالب کسی دوسرے مذہب کے پیرو ہوتے تو مولا علی ان کے دیوتا ہوتے۔

غالب اکیڈمی کے سکریٹری ڈاکٹر عقیل احمد نے کہا کہ غالب کی زندگی کا سب سے اہم واقعہ 1857کی لڑائی ہے۔ ان کے بعد کوئی ایسا شاعر موجود نہیں جو پہلی جنگ آزادی کے حالات قلمبند کرتا۔

انھوں نے مزید کہا کہ غالب اپنے خطوط کو چھپوانا نہیں چاہتے تھے تاہم ان کی زندگی ہی میں ’عود ہندی‘ اور ’اردوئے معلی‘ کی اشاعت ہو گئی تھی۔

Saturday, December 12, 2009

مطالعات غالب میں حکیم عبد الحمید کی ناقابل فراموش خدمات

ہندوستان میں ہمدرد دواخانہ کے بانی حکیم عبد الحمید غالب کے بہت بڑے مداح تھے۔ انھوں نے مزار غالب کی تعمیر کے سلسلے میں نمایاں کوششیں کی تھیں ۔ انھوں نے ہی مزار سے متصل ایک بڑا قطعہ اراضی خرید کر اس پر غالب اکیڈمی کی تعمیر کروائی۔ غالب پر ان کی مرتب کردہ تین کتابیں ’حالات غالب‘ ’مطالعات خطوط غالب‘ اور ’مطالعات کلام غالب‘ شائع ہوئی ہیں۔جبکہ غالب اکیڈمی میں ان کی کوششوں سے قائم غالب میوزیم لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کیے ہوئے ہے۔

دارالسلطنت نئی دہلی کے علاقے بستی حضرت نظام الدین میں واقع غالب اکیڈمی میں گذشتہ روز ’مطالعات غالب میں حکیم عبد الحکیم کی خدمات‘ کے زیر عنوان ایک پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس میں درگاہ حضرت نظام الدین اولیا کے سجادہ نشین خواجہ حسن ثانی نظامی نے، جو کہ حکیم عبد الحکیم کے ایک قریبی دوست رہے ہیں، کلیدی خطبہ پیش کیا اور مطالعات غالب میں حکیم صاحب کی خدمات پر تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی۔انھوں نے بتایا کہ حکیم صاحب غالب کے بہت بڑے مداح تھے۔ اسی لئے انھوں نے مزار غالب سے متصل غالب اکیڈمی قائم کی تاکہ غالب کی تفہیم و ترویج میں مدد مل سکے۔
خواجہ حسن ثانی نظامی نے مزار غالب کی تعمیر کے سلسلے میں ملک کے مختلف حصوں میں کیے جانے والے چندے کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ کس طرح بہت سے لوگوں نے ان کے مزار کے لیے چندے جمع کیے اور ہضم کر گئے۔ انھوں نے مزار غالب کی تعمیر کے سلسلے میں فلم ساز سہراب مودی کے تعاون سے متعلق پھیلی غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اس بارے میں کوئی تعاون نہیں دیا تھا۔ ان کا تعاون بس اتنا تھا کہ انھوں نے مزار غالب پر چادر چڑھائی اور وہاں کھڑے ہو کر تصویر بنوا ئی۔ اور اس طرح ایک غلط فہمی پھیل گئی۔

غالب اکیڈمی کے سکریٹری ڈاکٹر عقیل احمد نے غالب سے حکیم عبد الحمید کی محبت اور عقیدت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ غالب اکیڈمی کے قیام کا منصوبہ انھوں نے 1935ہی میں بنا لیا تھا۔ اسی سال انھوں نے مطالعات غالب کی خاطر غالب اکیڈمی قائم کرنے کے لیے مزار غالب سے متصل ایک قطعہ اراضی خریدا۔ بعد میں اس پر ’غالب اکیڈمی‘ کے نام سے ایک تین منزلہ عمارت تعمیر کی گئی اور غالب صدی تقریبات کے دوران 22فروری 1969کو اس وقت کے صدر جمہوریہ ڈاکٹر ذاکر حسین نے اس عمارت کا افتتاح کیا۔اسی موقع پر یوسف حسین مرحوم کی کتاب ’غالب اور آہنگ غالب‘، ہندی میں ’سرل غالب‘ اور انگریزی میں ’نوائے سروش‘ کے نام سے غالب پر تین کتابیں غالب اکیڈمی سے شائع کی گئیں۔غالب اکیڈمی کی جانب سے غالب پر اب تک دو درجن سے زائد کتابیں شائع کی جا چکی ہیں۔

ڈاکٹر عقیل نے مزید بتایا کہ حکیم صاحب کے ذاتی ذخیرے سے غالب اکیڈمی کی عمارت میں میوزیم اور لائبریری بھی قائم کی گئی۔

انھوں نے کہا کہ حکیم صاحب نے غالب کے کلام کو موسیقی کے ذریعے پھیلانے کی بھی کوشش کی اور انہی کی کوششوں سے موسیقی کے ساتھ کلام غالب گانے کا سلسلہ شروع کیا گیا جو کئی سالوں سے اب بھی جاری ہے۔ حکیم صاحب نے غالب کی غزلوں کے کیسٹ اور فلاپی بھی بنوائی تھی (اس وقت سی ڈی کا رواج شروع نہیں ہوا تھا)۔اس طرح انھوں نے موسیقی کی مدد سے غالب کی غزلوں کو پوری دنیا میں پھیلانے کی کوشش کی تھی۔

حکیم صاحب 1935سے ہی غالب پر لکھی گئی تحریریں یکجا کرتے رہے اور ان کو مختلف عنوانات کے تحت فائلوں میں محفوظ کرتے رہے ہیں۔انہی فائلوں کے مضامین کے انتخاب سے تین کتابیں غالب کی سوانح، غالب کی نثر اور غالب کی شاعری ترتیب پائی تھیں۔پہلی کتاب 1999میں ’حالات غالب‘ کے نام سے شائع ہوئی۔ اس کے بعد دوسری کتاب ’مطالعات خطوط غالب‘ حکیم صاحب کے سوویں یوم پیدائش پر شائع کی گئی اور اب تیسری کتاب ’مطالعات کلام غالب‘ غالب اکیڈمی نے شائع کی ہے۔

ہمدرد آرکائیوز ریسرچ سینٹرکے ڈائرکٹر سید اوصاف علی نے بھی، جنھوں نے چالیس سال تک حکیم عبد الحمید کے ساتھ کام کیا ہے، غالب سے حکیم صاحب کی عقیدت و محبت پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے بتایا کہ حکیم صاحب غالب میوزیم قائم کرنے کے سلسلے میں بہت پرجوش تھے۔انھوں نے غالب کی پسندیدہ اشیاکو یکجا کرواکر میوزیم میں رکھوایا۔ یہاں تک کہ غالب کو بخارہ کی خمیری روٹی بہت پسند تھی ،لہذا جب میں ایک پروگرام کے تحت بخارا گیا تو حکیم صاحب نے مجھ سے وہاں کی روٹی منگوائی اور وہ روٹی آج بھی میوزیم میں رکھی ہوئی ہے۔

اس میوزیم میں غالب کے پسندیدہ کھانوں کے علاوہ غالب کے لباس بھی رکھے ہوئے ہیں اور ان کا ایک قد آدم مجسمہ اور یہاں تک کہ اس ڈومنی کا بھی مجسمہ نصب ہے، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ غالب کی محبوبہ تھی۔ اس کے علاوہ ایک مصور برجیندر سیال نے غالب کے اشعار کے مفہوم کو سنگ ریزوں کی مدد سے سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ مثال کے طور پر :

نقش فریادی ہے کس کی شوخی تحریر کا
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا

اس شعر کے مفہوم کو اجاگر کرنے کے لئے ایسے سمندری پتھر ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ کرکے رکھے ہوئے ہیں جو انسانی شبیہ کا تصور اور مذکورہ شعر کا مفہوم پیش کر رہے ہیں۔

اس پروگرام میں یونیورسٹیوں کے اساتذہ نے بھی مطالعات غالب میں حکیم عبد الحمید کی خدمات پر روشنی ڈالی۔

اس موقع پر غالب اکیڈمی سے شائع کتاب ’مطالعات کلام غالب‘ کی رسم رونمائی بھی ہوئی، جس میں خواجہ حسن ثانی نظامی، گلزار دہلوی، سید اوصاف علی، ڈاکٹر عقیل احمد اور دوسرے لوگ شامل تھے۔

اس کتاب میں کل چالیس مضامین ہیں جو 1953سے لے کر 1998تک کے دوران مختلف اخبارات و رسائل میں شائع ہوئے ہیں۔ مضمون نگاروں میں پروفیسر سید احتشام حسین، ماہر غالبیات مالک رام، ظ۔ انصاری، پروفیسر آل احمد سرور، سید عابد علی عابد، وحید قریشی، فرمان فتح پوری، کالی داس گپتا رضا، گیان چند جین، جگن ناتھ آزاد اور سید مسعود حسین رضوی ادیب جیسے نامور قلمکار اور ماہرین غالبیات شامل ہیں۔

Sunday, November 22, 2009

علامہ اقبال کے یوم پیدائش پر ہندوستان بھر میں یوم اردو کا انعقاد

شاعر مشرق، حکیم الامت علامہ اقبال کے 132ویں یوم پیدائش پرنو نومبر کو ہندوستان کے مختلف شہروں میں یوم اقبال اور یوم اردو کا انعقاد کیا گیا۔

شاعر مشرق، حکیم الامت علامہ اقبال کے 132ویں یوم پیدائش پرنو نومبر کو ہندوستان کے مختلف شہروں میں یوم اقبال اور یوم اردو کا انعقاد کیا گیا۔ اس سلسلے میں اہم تقریب دارالسلطنت دہلی میں منعقد ہوئی۔ آل انڈیا اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن اور یونائٹیڈ مسلم آف انڈیا کے زیر اہتمام گذشتہ پندرہ برسوں سے یوم اقبال پر یوم اردو کا انعقاد کیا جا رہا ہے اور اب یہ سلسلہ رفتہ رفتہ پورے ملک میں پھیلتا جا رہا ہے۔

غالب اکیڈمی میں منعقد ہ اس تقریب میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شریک دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر تیجندر کھنہ نے انتہائی شستہ اردو میں علامہ اقبال سے اپنی عقیدت کا اظہار کیا اور ان کے متعدد اشعار کے حوالے سے کہا کہ علامہ اقبال نے اتحاد و یگانگت کا درس دیا ہے اختلاف و انتشار کا نہیں۔

انھوں نے کہا کہ کیا کوئی اور شاعر ’سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا‘ جیسی نظم لکھ سکتا ہے۔ تیجندر کھنہ نے کہا کہ صرف یوم اقبال یا یوم اردو منانے سے اقبال کے لئےعقیدت کا اظہار نہیں ہو سکتا۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم اقبال کے پیغام کو عام کریں اور ’مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا‘کے پیغام کو عملی انداز میں اپنی زندگی میں منتقل کریں۔ لیفٹیننٹ گورنر نے اقبال کے حوالے سے یہ بھی کہا کہ دنیا کا کوئی بھی مذہب نفرت اور قتل و خوں ریزی نہیں سکھاتا اور اسلام تو امن و شانتی کا مذہب ہے۔ انھوں نے اردو کے حوالے سے کہا کہ یہ زبان ایک شیریں زبان ہے اور وہ اس کا وعدہ کرتے ہیں کہ دہلی میں اردو کو اس کا حق دلانے میں کبھی بھی پس و پیش سے کام نہیں لیں گے۔

دہلی یونیورسٹی میں شعبہ اردو کے سابق صدر اور ماہر اقبالیات پروفیسر عبد الحق نے صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ علامہ اقبال ایک آفاقی شاعر ہیں۔ انھوں نے 1923میں افغانستان کے مستقبل کو دیکھ لیا تھا اور کہا تھا کہ افغانستان ایشیا کے جسم کی حیثیت رکھتا ہے اور افغان عوام اس جسم کے دل کا درجہ رکھتے ہیں۔ اگر افغانستان میں شورش ہوگی تو پورا ایشیا اضطراب میں مبتلا رہے گا۔ انھوں نے کہا کہ آج دیکھ لیجئے کہ افغانستان میں کیا ہو رہا ہے اورایشیا پر اس کے کیسے اثرات مرتب ہو رہے ہیںں۔

پروفیسر عبد الحق نے مزید کہا کہ یوں تو دنیا میں سات عجوبے ہیں لیکن اگر ان میں آٹھویں عجوبے کا اضافہ کیا جائے تو بلا شبہ وہ علام اقبال ہوں گے۔ وہ اور ان کی شاعری کسی عجوبے سے کم نہیں اور ان کی شاعری نے جو آفاقی پیغام دیا ہے وہ کسی اردو شاعر نے نہیں دیا ہے۔

اقبال کے بارے میں ان کے ایک نکتہ چیں مجنوں گورکھپوری کو کہنا پڑا تھا کہ دنیا میں کبھی کبھی ایسی ہستیاں پیدا ہوتی ہیں جو نہ صرف اپنے زمانے کے میلانات کے تابع ہوتی ہیں بلکہ خود ان پر قادر بھی ہوتی ہیں۔ وہ مروجہ دھاروں کے رخ کو نئی سمتوں میں موڑ دیتی ہیں۔ اقبال کا شمار بھی انہی ہستیوں میں ہوگا۔ وہ اپنے زمانے کے مخلوق تھے مگر ایک نئے زمانے کے خالق بھی تھے۔ اسی طرح فراق گورکھپوری کا یہ اقرار بھی دلچسپ ہے کہ ایشیا بھر کے شاعر مل کر اقبال کی اس غزل کا جواب نہیں لکھ سکتے:

نہ سلیقہ مجھ میں کلیم کا نہ قرینہ تجھ میں خلیل کا

انھوں نے اقبال کی شاعری کے رموز و نکات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اقبال ایک عوامی شاعر بھی ہیں اور ان کا یہ مصرع تو زبان زد عام ہے:

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے۔

اس کے علاوہ دیہات کے ان پڑھ لوگ بھی لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری ‘ نظم سے بخوبی واقف ہیں۔ علامہ نے 1904میں نظم ’ ترانہ ہندی ‘ تخلیق کی تھی اور اس نظم کا ایک مصرعہ ’سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا‘ خلانورد راکیش شرما کی زبان سے بالائے قمر تک پہنچا تھا۔ انھوں نے 27سال کی عمر میں یہ نظم لکھی تھی اور آج تک اردو کیا کسی دوسری زبان میں بھی ایسی نظم نہیں لکھی گئی۔ اسے بھی چھوڑیے، ہم نے احتجاج و انقلاب کو صبح و شام کا وظیفہ تو سمجھا ہے مگر انصاف کی بات یہ ہے کہ اقبال کے اس شعر کا جواب اب تک کسی سے نہیں بن پڑا:

جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی
اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو

پروفیسر عبد الحق نے یاد دلایا کہ جنرل ایوب خاں نے اپنی کتاب کا نام رکھا ’جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی‘۔ ہندوستان کے دوسرے صدر ڈاکٹر رادھا کرشنن نے بھی اقبال کو خراج عقیدت پیش کیا ہے اور ڈاکٹر ذاکر حسین کو تو اقبال بہت عزیز تھے ۔پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو اقبال سے بہت متاثر تھے۔ اسی طرح ڈاکٹر من موہن سنگھ بھی ان کے اشعار گنگناتے ہیں۔ ان کے علاوہ کتنے اکابرین ہیں جن کے دلوں میں علامہ اقبال شمع آرزو بن کر مچل رہے ہیں۔ ملک کی چھ بڑی دانش گاہوں میں اقبال کو اعزازی ڈگری کا تفویض کیا جانا بھی ان کی جلیل القدر علمی خدمات کا اعتراف ہے۔ ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر و حیدرآباد کے علاوہ کلکتہ میں اقبال چئیر کا قیام بھی اسی اعتراف کی روشن دلیل ہے۔

اس تقریب کے روح و رواں اور یونائٹیڈ مسلم آف انڈیا کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر سید احمد خاں نے ان لوگوں کو آڑے ہاتھوں لیا جو اقبال کے یوم پیدائش پر اردو ڈے منانے پر دبی زبان میں نکتہ چینی کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اقبال کے یوم پیدائش پر اردو ڈے منانے کا فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کیا گیا ہے اور اب نہ صرف پورے ملک میں بلکہ بیرون ملک ان علاقوں میں بھی جنہیں اردو کی نئی بستیاں کہا جاتا ہے، اقبال کے یوم پیدائش پر عالمی اردو ڈے منایا جا رہا ہے۔


جامع مسجد فتح پوری کے شاہی امام ڈاکٹر مفتی مکرم احمد، پروفیسر شریف احمد، پروفیسرمنیر احمد، پروفیسر ابن کنول، پروفیسر اے آر کاردار اور دہلی کے متعدد صحافیوں اور ادیبوں نے اس تقریب میں علامہ اقبال کو شاندار خراج عقیدت پیش کیا۔

اس موقع پر علامہ اقبال کی یاد میں ہمیشہ کی مانند ایک یادگار مجلے کا اجرا کیا گیا اور اقبال اور اردو کے نام پر متعدد شخصیات کو ایوارڈز دیے گئے۔

اسی درمیان اتر پردیش، بہار، مغربی بنگال، آندھرا پردیش، اڑیسہ، جھارکھنڈ، مہاراشٹرا، مدھیا پردیش اور ملک کی دوسری ریاستوں سے بھی یوم اقبال اور یوم اردو منانے کی اطلاع ات موصول ہوئی ہیں۔ اتر پردیش کے قصبہ نگینہ میں اقبال ڈے کے موقع پر ان کی شاعری کے مختلف پہلووں پر اظہار خیال کیا گیا اور متعدد پروفیسروں اور دانشوروں نے اس خیال کا اظہار کیا کہ اقبال کو نوبیل انعام ملنا چاہیے تھا۔

علیگڑھ میں یوم اردو تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اے ایم یو میں شعبہ قانون کے پروفیسر ڈاکٹر شکیل صمدانی نے کہا کہ اقبال صرف ایک شاعر ہی نہیں بلکہ ایک عظیم مفکر، فلسفی، دانشور اور تاریخ پر گہری نظر رکھنے والے شخص تھے۔ مرادآباد، دیوبند، سہارنپور اور دوسرے شہروں سے بھی یوم اقبال اور یوم اردو منائے جانے کی خبریں ہیں۔ ان تقریبات میں علامہ اقبال کو یاد کرنے کے ساتھ ساتھ اردو کے مسائل کا بھی ذکر کیا گیا اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اردو کو اس کا جائز حق دے۔


published on VOAnews.com at
http://www1.voanews.com/urdu/news/arts-entertainment/India-Iqbal-day-70142787.html

Thursday, November 19, 2009

مولوی اسما عیل میرٹھی، ایک ہمہ جہت شخصیت

مولوی اسما عیل میرٹھی کا شمار جدید اردو ادب کے ان اہم ترین شعرا میں ہوتا ہے جن میں مولانا الطاف حسین حالی، مولوی محمد حسین آزاد وغیرہ شامل ہیں۔


تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا
کیسی زمیں بنائی کیا آسماں بنایا

ادب سے ہی انسان انسان ہے
ادب جو نہ سیکھے وہ حیوان ہے

بگڑتی ہے جس وقت ظالم کی نیت
نہیں کام آتی دلیل اور حجت

ظلم کی ٹہنی کبھی پھلتی نہیں
ناؤ کاغذ کی کبھی چلتی نہیں

ملے خشک روٹی جو آزاد رہ کر
تو ہے خوف و ذلت کے حلوے سے بہتر

جو بات کہو صاف ہو ستھری ہو بھلی ہو
کڑوی نہ ہو کھٹی نہ ہو مصری کی ڈلی ہو

یہ اشعار مولوی اسماعیل میرٹھی کے ہیں جو انھوں نے بچوں کے لئے لکھے ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ صرف بچوں کے شاعر تھے۔ معروف نقاد پروفیسر گوپی چند نارنگ کہتے ہیں:

”بچوں کا ادب اسماعیل میرٹھی کی ادبی شخصیت کا محض ایک رخ ہے۔ان کا شمار جدید نظم کے ہئیتی تجربوں کے بنیاد گزاروں میں بھی ہونا چاہیے۔ آزاد اور حالی نے جدید نظم کے لئے زیادہ تر مثنوی اور مسدس کے فارم کو برتا تھا۔اسماعیل نے ان کے علاہ مثلث، مربع، مخمس اور مثمن سے بھی کام لیا ہے۔ ترقی پسند شاعروں نے آزاد نظم اور نظم معرٰی کے جو تجربے کیے، ان سے بہت پہلے عبد الحلیم شرر، نظم طباطبائی اور نادر کاکوروی اور ان سے بھی پہلے اسماعیل میرٹھی ان راہوں سے کانٹے نکال چکے تھے۔“

اسماعیل میرٹھی 12نومبر 1844کو میرٹھ کے ایک محلے مشائخان میں پیدا ہوئے تھے۔ اب یہ علاقہ اسما عیل نگر کے نام سے معروف ہے۔ان کا سلسلہ نسب حضرت محمد بن ابو بکر صدیقؓ سے جا ملتا ہے۔ ان کے کسی بزرگ نے ترکستان کے قدیم شہر خجند میں سکونت اختیار کی تھی اور وہاں سے آپ کے مورث اعلی میں سے قاضی حمید الدین خجندی بادشاہ ظہیر الدین بابر کے ہمراہ ہندوستان آئے تھے۔

تعلیم مکمل کرنے کے بعد اسما عیل میرٹھی نے سررشتہ تعلیم میں ملازمت اختیار کی جہاں ان کی ملاقات قلق میرٹھی سے ہوئی۔ قلق میرٹھی نے انگریزی کی پندرہ اخلاقی نظموں کا منظوم ترجمہ ’جواہر منظوم‘ کے نام سے کیا تھا۔ اس منظوم ترجمے نے اسما عیل میرٹھی کو بہت متاثر کیا، جس سے نہ صرف ان کی شاعری میں بلکہ جدید اردو نظم میں وہ انقلاب برپا ہوا کہ اردو ادب جدید نظم کے نادر خزانے سے مالامال ہو گیا۔

مولوی اسما عیل میرٹھی کا شمار جدید اردو ادب کے ان اہم ترین شعرا میں ہوتا ہے جن میں مولانا الطاف حسین حالی، مولوی محمد حسین آزاد اور غلام مولی قلق میرٹھی شامل ہیں۔ ان لوگوں نے اس وقت اردو زبان وادب کی آبیاری کی جب فارسی زبان وادب کا بول بالا تھا۔ مدارس میں فارسی کتابوں کا چلن تھا اور گھروں میں صرف انفرادی طور پر اردو کی تعلیم ہوتی تھی۔ اس وقت بچوں کی تدریسی ضرورتوں کا ادراک کرتے ہوئے جس شخص نے باقاعدہ بچوں کے ادب کی طرف توجہ دی وہ مولوی اسما عیل میرٹھی تھے۔ انھوں نے نظمیں بھی لکھیں اور پہلی سے پانچویں جماعت تک کے لئے اردو کی درسی کتابیں بھی تصنیف کیں۔ ابتدائی جماعتوں کے لئے اردو زبان کا قاعدہ بھی مرتب کیا۔ انھوں نے قواعد و زبان پر بھی کئی کتابیں تصنیف کیں۔ انھوں نے لوئر پرائمری، اپر پرائمری اور مڈل جماعتوں کے لئے علاحدہ درسی کتابیں تیار کیں۔ جن میں بچوں کی نفسیات کے مطابق اسباق شامل کرتے ہوئے ا ن کی عمروں کا بھی خاص خیال رکھا گیا۔ ان کی درسی کتابیں ہزاروں مدارس اور اردو میڈیم اسکولوں کے نصاب میں شامل ہیں۔
published on VOAnews.com at

http://www1.voanews.com/urdu/news/arts-entertainment/ismael-mirathi-70187807.html

Saturday, February 21, 2009

Translation Mechanism:مشینی ترجمہ: تہذیبی شناخت اور لفظ و معنی کا پیچیدہ رشتہ

سہیل انجم
نئی دہلی
February 20, 2009
کیا مشین ہر کام کر سکتی ہے؟ کیا ٹیکنالوجیکل ترقی کے اس دور میں وہ مختلف زبانوں کا آپس میں اس طرح ترجمہ کر سکتی ہے کہ لفظ ومعنی کا پیچیدہ رشتہ اور تہذیبی شناخت مجروح نہ ہو اور کیا وہ بین السطورمیں پوشیدہ انسانی جذبات و احساسات کی بھی ترجمانی کے فرائض انجام دے سکتی ہے؟
اس بحث کا آغاز نئی دہلی کے جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے ایک سیمینار میں ہوا اور بحث اس نتیجے پر ختم ہوئی کہ مشینی ترجمہ نگار یا خودکار مترجم ترجمے کے عمل میں آسانیاں تو فراہم کر سکتا ہے لیکن وہ لسانی و تہذیبی پیچیدگیوں سے نہ توبہ آسانی گزر سکتا ہے اور نہ ہی ان میں باہمی فرق کو واضح ہی کر سکتا ہے۔
اس موضوع پر کلیدی خطبہ مسلم یونیورسٹی میں شعبہ لسانیات کے چئیرمین اور استاد پروفیسر اے آر فتیحی نے پیش کیا۔ انھوں نے انتہائی بلیغ انداز میں ترجمے کے تاریخی پس منظر، مختلف زبانوں میں ترجمے کی روایت اور بھارت میں ترجمے کی تاریخ پر اظہار خیال کیا۔جبکہ دوسرے لوگوں نے بھی مذہبی ترجمے، تہذیبی ترجمے اور ادبی ترجمے پر اپنے خیالات رکھے اور کہا کہ ہندوستان میں ادبی ترجموں سمیت دوسرے ترجموں کی بھی توانا اور جامع روایت رہی ہے اور اس روایت کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔سیمینار میں فکشن کے ترجمے میں عملی مسائل کا بھی ذکر کیا گیا اور کہا گیا کہ اگر مترجم زبان کی باریکیوں اور اس کے تاریخی پس منظر سے واقف نہیں ہے تو وہ اچھا ترجمہ نگار نہیں بن سکتا۔مختلف زبانوں سے ترجمہ کے عمل کے دوران مترجم کو جن دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ان پر اسی صورت میں قابو پایا جا سکتا ہے جب نہ صرف زبان و ادب کی پوری معلومات ہو بلکہ مترجم اس زبان کی تہذیبی روایات سے بھی واقف ہو۔ورنہ اصل متن کا مفہوم کچھ اور ہوگا اور ترجمہ شدہ متن کا مفہوم کچھ اور ہوگا۔اگر مترجم تہذیبی علم نہیں رکھتا تو ترجمہ کے ساتھ زبردست ناانصافی ہوگی۔
مثال کے طور پر انگریزی زبان گرچہ ایک زبردست لسانی قوت رکھتی ہے لیکن ’سندور‘ یا ’سہاگن‘ جیسے بعض تمدنی الفاظ کے اظہار میں انتشار کا شکار ہو جاتی ہے اور پروفیسر فتیحی کے مطابق ان الفاظ کی لسانی منتقلی میں وہ ترسیلی جہتیں ابھر کر سامنے نہیں آپاتیں جو ان الفاظ سے وابستہ ہیں۔
محاورات، تشبیہات، استعارے اور تمثیلی پیکر کے ترجمے بعض دفعہ مسائل کا سبب بنتے ہیں اور بعض صورتوں میں ان کی براہ راست لسانی منتقلی نہیں ہو پاتی،کیونکہ مختلف زبانوں میں ایسی لفظ بہ لفظ مماثلت نہیں ملتی جو با معنی بھی ہو اور درست بھی ہو۔
ایک مقرر نے میر کے اس شعر کی مثال پیش کی، نازکی اس کے لب کی کیا کہئے۔ پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے۔انھوں نے کہا کہ اس کا ترجمہ کرتے وقت ہر لفظ کا ترجمہ ہو سکتا ہے لیکن لفظ ’سی‘ کا کیا ترجمہ کیا جائے؟
اسی طرح پروفیسر فتیحی نے انگریزی کے لفظ ڈومیسٹک(Domestic) کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس ایک لفظ سے انگریزی میں کئی مفہوم نکلتے ہیں۔ لیکن جب ہم اردو میں اس کا ترجمہ کریں گے تو جملوں کے حساب سے الگ الگ مفاہیم نکلیں گے۔اگر یہ لفظ Catیعنی بلیّ کے لئے استعمال ہوگا تو اس کا مطلب ہوگاپالتو۔ اگر مسائل یعنی Problemکے ساتھ اس کا استعمال ہوگا تو اس کا مطلب ہوگا خانگی۔ اگر امور یا Issuesکے ساتھ ہوگا تو اس کا مطلب ہوگا داخلی اور اگر پرواز یعنی Flightکے ساتھ ہوگا تو اس کا مطلب ہوگا گھریلو۔
گویا لفظ و معنی کا رشتہ ہمیشہ پیچیدہ رہا ہے۔مترجم ترجمے کے دوران لفظ ومعنی کی حقیقت تک پہنچنے کے لیے ادراک کی گہرائیوں میں اترتا ہے اور لفظ و معنی کی وحدت کو تلاش کرتا ہے کیوں کہ لغت لفظ کے معنوی پہلو کو تو اجاگر کرتی ہے لیکن ثقافتی اور تمدنی حرکیات کا ترجمہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب مترجم ادراک کی گہرائیوں میں اترنے اور مصنف کے تجربے تک رسائی حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
ڈاکٹر فتیحی کے خیال میں مصنف اور مترجم کے مابین ذہنی روابط میں کمی مترجم کو متن کے ظاہری معنی تک محدود کر دیتا ہے اور اس طرح ترجمہ لسانی ترجیحات کے جبر کا شکار ہو جاتا ہے۔
اس تناظر میں بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ جب انسانی مترجم جو کہ ذہن و دماغ بھی رکھتا ہے لسانی، تہذیبی، ثقافتی اور تمدنی پس منظر سے عدم واقفیت کی بنیاد پر فن ترجمہ کی گہرائیوں میں غوطے کھانے لگتا ہے تو پھر مشین اس پیچیدہ عمل سے بہ کمال کامیابی کیسے گزر سکتی ہے؟
اس کے علاوہ مشین انسانی جذبات و احساسات سے بھی عاری ہوتی ہے لہذا وہ ترجمے کی باریکیوں سے عہدہ برآ نہیں ہو سکتی۔ترجمے کے دوران مترجم کے تجربات بھی کام آتے ہیں اور وہ تجربات صداقت کی توسیع میں ایک نمایاں رول ادا کرتے ہیں۔اور پھر اس طرح ترجمہ شدہ متن میں سچائیوں کی نئی پرتوں کا انکشاف ہوتا ہے۔
بقول ڈاکٹر فتیحی ترجمے کے ایسے نمونوں میں مصنف اور مترجم ایک دوسرے سے ابلاغ کرتے ہیں اور ترجمہ ذہنی رد و قبول کے مراحل سے گزر کرایک ایسے فکری ساختیے کو ترتیب دیتا ہے جو سکہ بند معنویت سے آزاد ہوتا ہے۔ ایسے ترجموں میں توجہ لفظی مماثلت سے زیادہ فکری مماثلت پر ہوتی ہے تاکہ متن کی معنویت کا نظام رواں دواں رہے۔
ہندوستان میں ترجموں کی روایت بہت قدیم ہے۔مغلیہ دور میں بھی ترجمہ نگاری کو اہم سمجھا گیا تھا اور سنسکرت کی، علمی،ادبی اور مذہبی کتابوں کا فارسی میں ترجمہ کیا گیا۔ترجمے کی روایت کا دوسرا اہم دور برٹش دور حکومت میں فورٹ ولیم کالج کے قیام سے شروع ہوتا ہے۔اس دور میں ادبی ترجمے بھی خوب ہوئے۔
مشینی ترجمے پر پاکستان میں کافی کام ہوا ہے لیکن ہندوستان میں اتنا نہیں ہوا ہے۔یہاں پونے میں واقع سینٹر فار ڈیولپمنٹ آف ایڈوانسڈ کمپیوٹر نے اس سلسلے میں کچھ کام کیا ہے۔لیکن اردو کا معاملہ بہت پچھڑا ہوا ہے۔کمپیوٹر دیوناگری رسم الخط کا ترجمہ اردو رسم الخط میں کر تو دیتا ہے لیکن بات بنتی نہیں۔کیونکہ کمپیوٹرترجمہ نہیں کرتا صرف Translitration کرتا ہے۔گویا اگر ہم مشینی ترجمے پر زور دیں گے تو لسانی اور تہذیبی و تمدنی خصوصیات متاثر ہو ں گی۔ہندوستان میں اسکرپٹ سے متعلق دشواریاں ہیں جنہیں ابھی دور نہیں کیا جا سکا ہے۔جبکہ پاکستان میں بہت حد تک کامیابی مل گئی ہے۔
ڈاکٹر فتیحی کا مزید کہنا ہے کہ مشینی ترجمے کا مقصد ترجمے کے عمل کو کمپیوٹر کی مدد سے آسان بنانا ہے، تاکہ تعلیمی، تکنیکی اور معلوماتی مواد تیار کیا جا سکے۔جب اس سلسلے میں ایک خودکار مترجم تیار کرنے کی کوشش شروع ہوئی تھی تو انتہائی جوش و ولولہ کے ساتھ یہ توقع کی گئی تھی کہ جلد ہی ایک ایسا سافٹ ویر ایجاد ہو جائے گا جس میں اگر کسی زبان کا متن داخل کیا جائے تو مطلوبہ زبان کا ترجمہ آسانی کے ساتھ مل جائے گا۔لیکن لسانی تحقیق سے یہ اندازہ ہوا کہ مشینی ترجمہ بھی آسان کام نہیں ہے۔تاہم انھوں نے یہ توقع ظاہر کی ہے کہ مکمل طور پر کوئی خود کار مترجم نہ بھی تیار ہو تب بھی مشینی ترجمے سے ترجمے کے عمل میں آسانی فراہم ہو جائے گی۔